حکومت پائیدار استحکام کیلئے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے، برآمدات پر مبنی نمو ہی قومی معاشی استحکام کی ضمانت ہے، رانا احسان افضل

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل خاں نے کہا ہے کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، خطے میں سکیورٹی چیلنجز اور اندرونی ساختی مسائل کے باوجود پاکستان کی معاشی سمت درست ہے اور حکومت پائیدار استحکام کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے تاہم دیرپا ترقی اور خود انحصاری کے لیے برآمدات پر مبنی نمو ہی واحد اور ناگزیر راستہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں ”چیلنجز آف پاکستان ٹریڈ“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی بقا، زرمبادلہ کے ذخائر میں پائیدار اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع صرف اسی صورت ممکن ہیں جب ملکی برآمدات میں نمایاں اور مسلسل اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت صنعتی پیداوار، توانائی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور تجارتی تنوع کے ذریعے معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سپلائی چین کی تبدیلیوں، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے پاکستانی صنعتکاروں کیلئے مشکلات پیدا کیں تاہم پاکستانی صنعت اور کاروباری طبقہ ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیلنٹ دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکا ہے اور اگر سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ملک کے اندر بھی معاشی انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تناظر میں مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بناتے ہوئے معیشت کو بتدریج خود کفالت کی طرف لے جانا چاہتی ہے، بجلی کے شعبے میں اصلاحات، نقصانات میں کمی اور ترسیلی نظام کی بہتری کے اقدامات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسکوز کی نجکاری کا عمل شروع کیا جا رہا ہے تاکہ کارکردگی میں اضافہ اور لائن لاسز میں کمی لائی جا سکے جبکہ یوٹیلیٹی سٹورز کو مرحلہ وار بند کر کے مستحق طبقات کی معاونت کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے اہداف پر مبنی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (NTDC) کو تین حصوں میں تقسیم کر کے انتظامی اور عملی کارکردگی بہتر بنائی گئی جس سے ٹیرف میں کمی لانے میں مدد ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایز آف ڈوئنگ بزنس میں بہتری کے لیے قوانین اور طریقہ کار کو سادہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے مختلف شعبہ جات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے اقدامات جاری ہیں تاکہ محصولات میں اضافہ ہو اور ٹیکس کا بوجھ منصفانہ انداز میں تقسیم ہو۔رانا احسان افضل خاں نے کہا کہ دنیا بھر میں مؤثر سروس ڈیلیوری تھرڈ ٹیئر آف گورنمنٹ کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے مضبوط، بااختیار اور خودمختار بلدیاتی نظام ہی عوامی مسائل کے حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد ایک بڑا صنعتی اور تجارتی شہر ہے جس کی مزید ترقی قومی معیشت کے لیے ناگزیر ہے اور حکومت انفراسٹرکچر، صنعت اور برآمدات کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اداروں کی نجکاری سے نہ صرف کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ حکومت کو زیادہ اور شفاف ٹیکس محصولات بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں کسی ادارے کو ٹیکس استثنیٰ حاصل نہیں اور ٹیکس نظام کو مساوی اور منصفانہ بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔انہوں نے سکیورٹی کو اہم ترین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی ادارے ملک کے اندر امن و امان برقرار رکھنے اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کو باور کرادیا گیا ہے کہ پاکستان کے پاس سرحد پار دہشت گردی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور علاقائی استحکام کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی میں زراعت کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور زرعی پیداوار میں اضافہ برآمدات بڑھانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ معیاری بیج، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور زیر کاشت رقبے میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی کے لیے طویل المدتی پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے اور سیاسی یا انتظامی تبدیلیوں کے باوجود معاشی سمت میں استحکام برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو بھی قومی معاشی وژن ”اُڑان پاکستان“ کا فعال حصہ بننا چاہیے تاکہ ملک گیر سطح پر ہم آہنگ ترقی ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت برآمد کنندگان کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی کرنے کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ ری فنانسنگ سکیم اور دیگر سہولیات فراہم کر رہی ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھ سکیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو روایتی تجارت کے دائرے سے نکل کر ای کامرس، ڈیجیٹل کوریڈورز اور جدید لاجسٹکس نیٹ ورکس کی جانب تیزی سے پیش رفت کرنا ہوگی تاکہ عالمی منڈیوں تک رسائی آسان اور کم لاگت ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تجارتی حکمت عملی میں تنوع لا رہا ہے اور روایتی شراکت داروں کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ نئے تجارتی معاہدات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ”میڈ اِن پاکستان“ برانڈ کی عالمی ساکھ بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکام اور چیمبرز آف کامرس کے ساتھ مل کر مربوط حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کو جدید اور ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے تاکہ مقامی صنعتوں کو غیر منصفانہ عالمی تجارتی طریقوں اور ڈمپنگ جیسے مسائل سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ آئی ایم ایف پروگرام کے باعث مالی گنجائش محدود ہے تاہم حکومت کی اولین ترجیح صنعتکاروں کو لیکویڈیٹی فراہم کرنا ہے تاکہ پیداواری عمل متاثر نہ ہو اور روزگار کے مواقع برقرار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات اور تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کے سیمینارز کا تسلسل ضروری ہے تاکہ نوجوان نسل کو ملکی معیشت، تجارت اور عالمی رجحانات کے بارے میں آگاہی ملے اور وہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رؤف اعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرامز کے تناظر میں سٹرکچرل سطح پر مؤثر اصلاحات اور پالیسیوں کے عملی نفاذ کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ محض پالیسی سازی کافی نہیں بلکہ ان پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے ذہنی غلامی سے نکلنے اور نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں مثبت اور پرامن کردار ادا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کو ایک نیا اور ابھرتا ہوا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جدید ٹیکنالوجی روزگار کے مواقع کو متاثر کرتی ہے تو ہمیں اپنے معاشی ڈھانچے اور تعلیمی نظام کو اسی کے مطابق ڈھالنا ہوگا جس کے لیے جامع منصوبہ بندی اور طویل المدتی حکمت عملی ناگزیر ہے۔



