خلیجی ممالک سے جیٹ فیول کی فراہمی میں رکاوٹ،یورپ کی فضائی صنعت ایندھن بحران کے دہانے پر پہنچ گئی

آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کے باعث خلیجی ممالک سے جیٹ فیول کی فراہمی ر ک گئی ہے جس کے نتیجہ میں یورپ کی فضائی صنعت ایندھن کے ایک بڑے بحران کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔اردو نیوز کے مطابق یورپی ایئرلائنز و حکومتیں راشننگ، پروازوں کی منسوخی اور ہنگامی ایندھن بانٹنے جیسے اقدامات پر غور کر رہی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فتیح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے پاس صرف 6 ہفتوں کا جیٹ فیول باقی ہے۔ ان کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش نے تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران پیدا کر دیا ہے۔فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز میں ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈی دباؤ کا شکار ہے۔
اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں جیٹ فیول کی سمندری فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ معطل ہو چکا ہے۔ یورپ اپنی کل ضرورت کا تقریباً ایک تہائی براہِ راست جیٹ فیول اور دو تہائی خام تیل کی صورت میں درآمد کرتا ہے، جسے یورپی ریفائنریوں میں پروسیس کیا جاتا ہے۔یورپ کے لیے خلیجی ممالک سب سے بڑے سپلائر ہیں، اور کویت تاریخی طور پر سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ اینڈ انوائرمنٹ کے مطابق یورپ کی کل درآمدات کا تقریباً 30 فیصد آبنائے ہرمز سے جڑا ہوا ہے۔قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی ظاہر ہو چکا ہے۔
جنگ کے آغاز سے جیٹ فیول کی قیمتوں میں 95 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اپریل کے وسط میں عالمی سطح پر فی ٹن قیمت 1458 ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بحران اب دباؤ سے قلت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ رِسٹاد انرجی کے ماہرین نے اسے گزشتہ آٹھ دہائیوں کا سب سے بڑا بحران قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یورپ پانچ سے سات ہفتوں میں بڑے پیمانے پر ایئرپورٹ قلت کا سامنا کرے گا۔اُدھر سیاسی پس منظر نے بھی غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی کی توسیع کے باوجود آبنائے ہرمز کھل نہیں سکی۔ ایران نے حالیہ دنوں میں تین کارگو جہازوں پر حملہ کیا اور دو کو اپنی تحویل میں لے لیا۔یورپی کمیشن نے اگرچہ بڑے پیمانے پر ایندھن کی قلت سے انکار کیا ہے، لیکن ایئرلائنز پہلے ہی پروازوں میں کمی کر رہی ہیں۔ لفتھانزا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس موسمِ گرما کے دوران ایندھن بچانے کے لیے اپنی پروازوں میں 20 ہزار کی کمی کرے گی ۔ اٹلی کے ایئرپورٹس نے بھی راشننگ شروع کر دی ہے۔
یورپی یونین نے ’ایکسلیریٹ ای یو‘ منصوبہ پیش کیا ہے جس میں قلیل مدتی اقدامات جیسے ایندھن کی تقسیم اور ذخائر کی نگرانی شامل ہیں، جبکہ طویل مدتی حکمتِ عملی میں پائیدار ایندھن اور مقامی پیداوار پر زور دیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران یورپ کو اپنی فضائی ایندھن حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنے اور پائیدار متبادل ایندھن کی طرف تیزی سے قدم بڑھانے پر مجبور کرے گا کہ ۔ بصورتِ دیگر، یورپ کی فضائی صنعت جس پر 14 ملین ملازمتوں اور 851 ارب یورو کی معیشت کا انحصار ہے، شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔



