کاروباری

وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات ، سیکٹر کو درپیش چیلنجز کا جائزہ اور صنعتی و برآمدی فریم ورک مضبوط بنانے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات بارے تبادلہ خیال کیا

وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان سے پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے ملاقات کی جس دوران کیمیکل سیکٹر کو درپیش چیلنجز کا جائزہ اور ملکی صنعتی و برآمدی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات بارے تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان کے معاشی چیلنجز صرف پالیسی سے متعلق نہیں بلکہ زیادہ تر گورننس اور عمل درآمد کے خلا سے جڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اندرونی اصلاحات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہیں کہ تجارتی اور صنعتی پالیسیاں حقیقی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔جام کمال خان نے کہا کہ سیکٹرل کونسلز کے تحت سیکٹرل پلاننگ کو ادارہ جاتی بنانے کی ضرورت ہے جس میں متعین ملکیت، واضح مینڈیٹ اور وقتی ڈلیوری ایبلز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکٹرل کونسلز کو ڈسکشن فورمز سے آگے بڑھنا اور پاکستان کے وسیع تر پانچ سالہ ترقیاتی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ طویل مدتی اقتصادی منصوبہ بندی کے لیے موثر پلیٹ فارم بننا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی پالیسی کے اندر ساختی صنعتی منصوبہ بندی کو شامل کرنے سے ہم آہنگی اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں کہا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے معاشی لچک کو یقینی بنانے کے لیے کیمیکلز، فارماسیوٹیکل، سرجیکل سامان، فوڈ پراسیسنگ اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا وسیع تر معاشی وژن غیر روایتی برآمدی شعبوں کے لیے مواقع کو بڑھانے پر زور دیتا ہے۔ جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کو ان ممالک کے ساتھ سٹریٹجک طور پر روابط رکھنا چاہئیں جہاں اہم تجارتی عدم توازن موجود ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ بعض ممالک سے بڑے پیمانے پر درآمدات کی صورت میں پاکستان تجارتی توازن کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے منتخب ملکی مصنوعات کے لیے ترجیحی منڈی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ ملاقات میں پی سی ایم اے کے وفد نے کیمیکل سیکٹر کی کارکردگی کے حوالے سے اپنے تحفظات پیش کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے بڑھتے اخراجات، مالیاتی رکاوٹوں اور ٹیرف نے مقامی صنعت کاروں پر دباؤ بڑھایا ہے۔

صنعت کے نمائندوں نے مارکیٹ سے غیر معیاری اور جعلی مصنوعات کو ختم کرنے کے لیے معیار اور دانشورانہ املاک کے نفاذ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر معیار اور مسلسل ریگولیٹری نگرانی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور غیر ملکی تعاون کی حوصلہ افزائی کرے گی۔وفد نے کہا کہ صنعتی ترقی کو صرف برآمدی اعداد و شمار کی عینک سے نہیں بلکہ وسیع تر معاشی اشاریوں جیسے کہ روزگار کی فراہمی، ٹیکس کی بنیاد میں توسیع اور مقامی مارکیٹ کی ترقی کے ذریعے دیکھا جانا چاہیے۔

جام کمال خان نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کی سفارشات کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور جہاں مناسب ہو گا جاری پالیسی بحث میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے تحقیق پر مبنی، شفاف اور ترقی پر مبنی صنعتی حکمت عملی کو فروغ دینے کے لیے صنعت کے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے کے لیے وزارت کے عزم کا اعادہ کیا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button