ایٹمی پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں، ایران

ایران نے کہا ہے کہ ایرانی ایٹمی پروگرام کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات ایرانی سٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سیکرٹری جلال دہقانی فیروز آبادی نے گزشتہ روز خبر رساں ایجنسی اسنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ مذاکراتی حالات گزشتہ مذاکرات سے مختلف ہیں، کیونکہ ملک 12 روزہ جنگ کے تجربے سے گزر چکا ہے جس کی وجہ سے بات چیت اب مزید مشکل ہو گئی ہے۔ ان کا اشارہ گزشتہ موسم گرما میں ایران پر ہونے والی اسرائیلی جنگ کی طرف تھا جس میں امریکا بھی شریک تھا۔
انہوں نے کہا کہ اب آپ کو اس فریق کے ساتھ مذاکرات کرنے ہیں جس نے آپ پر حملہ کیا، اس لیے مذاکرات کا نفسیاتی اور سیاسی ماحول اب زیادہ بوجھل ہو چکا ہے اور امریکاکے حوالے سے بے اعتمادی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے اس دور میں سب سے اہم عملی فرق یہ ہے کہ مسقط کے پہلے مذاکرات میں امریکیوں کا خیال تھا کہ اگر وہ مذاکرات کے ذریعے اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے تو وہ فوجی طاقت کے ذریعے انہیں حاصل کر لیں گے، اسی لیے انہوں نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا لیکن آج یہ تجربہ ناکام ثابت ہو چکا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں چوکنا اور تیار رہنے کی ضرورت ہے تاکہ گزشتہ دھوکہ دہی کا منظرنامہ دوبارہ نہ دہرایا جائے، ان کا اشارہ مذاکرات کے دوران ہی ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکا کے حملے کی طرف تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکیوں کا مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہونا ایران کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کا مذاکرات قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ ایٹمی پروگرام کا حل صرف سفارتی سطح پر ہی ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریق ابھی تک تفصیلی یا موضوعاتی مذاکرات میں داخل نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اپنے موقف اور ریڈ لائنز کا اعلان کیا ہے تاکہ بعد میں دونوں دارالحکومتوں میں ان پر غور کیا جا سکے اور یہ طے ہو سکے کہ بات چیت جاری رکھی جا سکتی ہے یا نہیں۔
تاہم انہوں نے اشارہ کیا کہ صرف بات چیت جاری رکھنے کے امکان پر اتفاق کرنا ہی بذات خود ایک مثبت بات ہے، مگر اس میں احتیاط برتنا ضروری ہے۔انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ حد سے زیادہ پرامید یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، بین الاقوامی تعلقات اور خارجہ پالیسی میں بدترین منظرناموں کو مدنظر رکھ کر ان کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان رواںسال 6فروری کو مسقط میں مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا تھا جسے مثبت قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد سے دونوں ممالک نے متعدد فائلوں بالخصوص یورینیم کی افزودگی اور اس کی شرح، ایران کے اندر موجود افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور بیلسٹک میزائلوں کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کے بارے میں تہران نے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ بحث سے باہر ہے۔



