پاکستان کی ترقی وسائل یا محنت کی کمی سے نہیں رکی ہوئی ،ادارہ جاتی صلاحیت اور گورننس کے مضبوط تیسرے درجے کی عدم موجودگی اس کی بڑی وجہ ہے،وفاقی وزیر احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی وسائل یا محنت کی کمی سے نہیں رکی ہوئی بلکہ ادارہ جاتی صلاحیت اور گورننس کے مضبوط ’’تیسرے درجے‘‘ کی عدم موجودگی اس کی بڑی وجہ ہے۔جمعرات کو’’ پاکستان گورننس فورم 2026 ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ آبادی والے ملک کو محض 1,200 سرکاری دفاتر کے ذریعے مؤثر انداز میں نہیں چلایا جا سکتا۔ جمہوریت کو حقیقی معنوں میں ثمر آور بنانے کے لیے اسے نچلی سطح تک وسعت دینا ہوگی، جہاں کم از کم دو لاکھ مقامی نمائندے عوام کی خدمت میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نچلی سطح کو بااختیار نہیں بنایا جاتا اور موسمیاتی مزاحمت (کلائمیٹ ریزیلینس) کو معیشت کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک گورننس کی پہیلی مکمل نہیں ہو سکتی۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ پاکستان گورننس فورم 2026 ایک باوقار اور مؤثر اجتماع تھا جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کی اعلیٰ قیادت، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں، موضوعاتی ماہرین، جامعات، تھنک ٹینکس اور اہلِ دانش نے شرکت کی۔ یہ پلیٹ فارم گہرے اور ہمہ جہتی احتسابِ ذات کا موقع فراہم کرتا ہے تاکہ اس امر کا جائزہ لیا جا سکے کہ قومی ترقی کو نئی جِلا دینے کے لیے گورننس کے ڈھانچے میں کن اصلاحات کی ضرورت ہے۔سائیڈ گفتگو کے دوران انہوں نے مقامی اور طرزِ حکمرانی کے ماڈلز کی فوری ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے کہا کہ ایسے نظام جو ہماری تاریخ، ثقافت اور معاشرتی حقائق میں پیوست ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے ایسے فریم ورک مستعار لیے جاتے رہے جو عوامی اقدار اور عملی زندگی سے مکمل ہم آہنگ نہیں تھے، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے گورننس ڈھانچے تشکیل دیے جائیں جو جوابدہ، مؤثر اور قومی شناخت کے عکاس ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہماری روایت، جو اسلامی تعلیمات اور مسلم قائدین کی میراث سے رہنمائی حاصل کرتی ہے، عدل، احتساب، مشاورت (شوریٰ) اور فلاحِ عامہ کے واضح اصول فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی قیادت کا تصور جس پر آج دنیا بھر میں گفتگو ہو رہی ہے، دراصل اسلامی اصولوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے، جہاں قیادت کو امانت اور خدمت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو درآمد شدہ سانچوں کی نہیں بلکہ اپنی فکری میراث پر اعتماد کی ضرورت ہے۔ ایسی اصلاحات ناگزیر ہیں جو قومی طاقتوں کو بروئے کار لائیں، منفرد چیلنجز کا ادراک کریں اور ایسے ادارے تشکیل دیں جو عوام کی امنگوں سے ہم آہنگ ہوں۔انہوں نے کہا کہ مکالمہ شروع ہو چکا ہے اور مشترکہ کاوشوں سے ایک ایسا نظامِ حکمرانی تشکیل دیا جا سکتا ہے جو حقیقی معنوں میں قومی شناخت کا عکاس اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔



