عالمی

عراق ،وزارت عظمیٰ کے امیدوار نورالمالکی کا امیدواری سے دستبردار ہونے سے انکار

عراق میں ایک بار پھر وزارت عظمی کے امید وار بننے والے سیاستدان نورالمالکی نے کہا ہے کہ وہ امریکی انتباہ اور دھمکی کے باوجود وزارت عظمیٰ کی امیدواری سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ العربیہ اردو کے مطابق نورالماکی کو عراق میں ایران کی حامی ملیشیاؤں کا حمایت یافتہ خیال کیا جاتا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی عراق کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں مگر انہیں امریکی دباؤ کی وجہ سے اپنا یہ منصب اس وقت چھوڑنا پڑا تھا۔

نورالمالکی نے گزشتہ روز اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا ایسا قطعا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ میں وزارت عظمیٰ کی امیدواری سے دستبردار ہو جاؤں کیونکہ یہ کسی بھی ملک کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ہمیں بتائے کہ عوام کسے ووٹ دیں اور کسے ووٹ نہ دیں۔ یہی اصول میری وزارت عظمیٰ کے لیے امید واری کا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں امریکی صدر کی دھمکی کو عراق کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

نور المالکی واحد سیاسی رہنما ہیں جو دو بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ ان کی وزارت عظمیٰ کا یہ دورانیہ 2006 سے 2014 کے درمیان رہا۔ انہوں نے امریکا کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش بھی کہ وہ امریکا کے اس پرانے مطالبے کو سمجھتے ہیں کہ ہتھیار ملیشیاؤں کے ہاتھ میں نہیں ہونے چاہییں بلکہ سرکاری فوج کے پاس ہی ہونے چاہییں۔ ہم یہ بات پہلے بھی کہتے رہے ہیں کہ عراقی فوج ایک ہی کمانڈ کے ماتحت رہے گی اور یہ کمانڈ ریاستی ہوگی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ ممکن ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوجائے اور امن کے لیے ایک اچھی راہ عمل بن جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ طاقت، جنگ یا تصادم سے ممکن نہیں ہو سکتا اس کے لیے ہمیں ان سے بات کرنا ہوگی اور انہیں قائل کر کے ہی کامیابی مل سکتی ہے۔ انہوں نے ایران اور عراق کے درمیان تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات عراقی خود مختاری کے احترام کی بنیاد پر ہیں اور ان تعلقات کی بنیاد پر ہمارے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات بھی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ عراق میں موجود سفارتی مشنز پر حملوں کی کوشش کو روکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی ملک کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے ہاں موجود سفارتی مشن اور عملے کو نشانہ بنائے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button