آج ملک کو درپیش سب سے بڑا چیلنج پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ بنانا ہے،صدر پاکستان آصف علی زرداری

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آج ملک کو درپیش سب سے بڑا چیلنج پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ بنانا ہے، کیونکہ معاند قوتیں مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے وژن کے دشمن پاکستان کو بری نظر سے دیکھتے ہیں، تاہم قوم اپنی یکجہتی اور عوامی طاقت کے بل بوتے پر نہ صرف بھرپور جواب دے گی بلکہ ملک کو مضبوط اور مستحکم بھی بنائے گی۔صدر مملکت نے زور دیا کہ پیپلزپارٹی وفاق کی نمائندہ جماعت ہے اور قومی یکجہتی کی حقیقی روح کی امین ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیادت ذمہ داری اور حوصلے کا تقاضا کرتی ہے اور جو شخص کسی ذمہ داری کو نبھانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اسے وہ ذمہ داری قبول نہیں کرنی چاہیے۔ بظاہر سیاسی مخالفین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقی قیادت میں ثابت قدمی اور استقامت درکار ہوتی ہے، خوف یا پسپائی نہیں۔صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت کی قیادت اور کارکنوں کی اس خطے سے گہری تاریخی وابستگی ہے۔ انہوں نے کہاہم سب اس دھرتی کے مقروض ہیں اور اس قرض کی ادائیگی کا بہترین طریقہ عوام کی خدمت اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت ان کے سیاسی فلسفے کا بنیادی ستون ہے۔ایک مقامی رکنِ اسمبلی کے مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے صدر مملکت نے اعلان کیا کہ حکومتِ سندھ اس علاقے میں ایک یونیورسٹی قائم کرے گی اور بطور صدر اصولی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ مقامی آبادی کو صحت کی تعلیم اور سہولیات سے براہِ راست فائدہ پہنچے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس منصوبے کی پیش رفت یقینی بنانے کے لیے وزیرِاعظم اور وزیرِاعلیٰ سندھ سے بھی بات کریں گے۔انسانی وسائل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدرمملکت نے کہا کہ اگر آبادی میں اضافے کو مؤثر انداز میں منظم کیا جائے تو یہ قومی دولت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے نظامِ آبپاشی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بہتر آبی نظم و نسق اور زیادہ محنت سے فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
انہوں نے کاشتکاروں کو ترغیب دی کہ وہ پیداوار بڑھانے اور زرخیز زمین کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے پر توجہ دیں۔اپنے سابقہ دور کا حوالہ دیتے ہوئے صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ جنوبی پنجاب کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں اور یاد دلایا کہ انہوں نے یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم اور مخدوم احمد محمود کوگورنر پنجاب مقرر کیا تھا تاکہ خطے کی ترقی اور نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ترقیاتی بجٹ کا 30 فیصد جنوبی پنجاب کے لیے مختص کیا گیا تھا، تاہم عملی طور پر 28 فیصد استعمال ہو سکا۔پارٹی رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹوکا سیاسی وژن بے مثال ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث دوست ممالک کی جانب سے پاکستان نہ آنے کے مشوروں کے باوجود انہوں نے عوام سے کیا گیا وعدہ نبھایا اور خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود وطن واپس آئیں۔ انہوں نے شہیدذوالفقار بھٹوکو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام میں آج بھی ان سے محبت اور احترام ان کی خدمات اور کارناموں کی وجہ سے ہے۔بلوچستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے صدرمملکت آصف علی زرداری نے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہونے دیا جائے گا اور اگرچہ مطالبات جائز ہو سکتے ہیں، تاہم مسائل کا حل محاذ آرائی کے بجائے مکالمے کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ ملکی وسائل اور معدنی دولت کا تحفظ قومی مفاد میں ناگزیر ہے۔اپنے سیاسی سفر پر نظر ڈالتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے جمہوریت کی جدوجہد میں طویل عرصہ جیل کاٹی اور قیادت کے لیے حوصلہ اور استقامت ضروری ہیں۔ انہوں نے عوام کی خدمت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جتنا زیادہ حکومت عوامی فلاح کے لیے کام کرے گی، ملک اتنا ہی مضبوط اور مستحکم ہوگا۔سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے کہا کہ پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب میں مضبوط پوزیشن رکھتی ہے اور اسے خطے میں بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کارکنوں کے جوش و جذبے اور یکجہتی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ضمنی انتخاب میں نمایاں اکثریت سے کامیابی جماعتی قوت کا واضح ثبوت ہے۔
رکنِ صوبائی اسمبلی ممتاز علی خان نے کہا کہ علاقے کا سب سے اہم مسئلہ امن و امان تھا، جو حکومتِ سندھ کے تعاون اور حکومتِ پنجاب کی کوششوں سے بڑی حد تک قابو میں آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب لوگ رات کے وقت گھروں سے نکلنے سے خوفزدہ تھے، مگر اب صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہو چکی ہے۔ممتاز علی خان نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ذوالفقار علی بھٹوکے نظریے کی پیروی کرتے ہوئے عوامی خدمت کو ترجیح دی ہے اور علاقے میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے زمین عطیہ کرنے کو تیار ہیں، تاہم انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا گیا۔
قبل ازیں صدرآصف علی زرداری نے ایم پی اے ممتاز علی چانگ کی والدہ کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کیا اور مرحومہ کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔اجتماع میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر، اراکین قومی اسمبلی مخدوم سید مصطفیٰ محمود اور مخدوم سید مرتضیٰ محمود، ایم پی اے سردار رئیس نبیل، صوبائی وزیر سندھ حاجی علی حسن زرداری اور بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان نے شرکت کی۔



