نیو اسٹارٹ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے باوجود روس ذمہ دارانہ رویہ اپنائے گا، روسی مندوب

اقوامِ متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے کہا ہے کہ روس اور امریکا اب نیو سٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (نیو اسٹارٹ) کے تحت کسی بھی قسم کی پابندیوں کے پابند نہیں رہے تاہم ماسکو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتا رہے گا۔تاس کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کی تجویز پرامریکا کی طرف سے کبھی کوئی حتمی اور واضح جواب نہیں آیا، اس لیے اب یہ سمجھا جا رہا ہے کہ معاہدے کے تناظر میں دونوں فریق کسی بھی ذمہ داری کے پابند نہیں ہیں، تاہم روس اس کے باوجود سٹریٹجک استحکام کی صورتحال کے تجزیے کی بنیاد پر ذمہ دارانہ اور محتاط طرزِ عمل اپنائے گا۔
واسیلی نیبنزیا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روس بین الاقوامی سلامتی کے شعبے میں صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے برابری کی بنیاد پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔نیو اسٹارٹ معاہدہ، جو جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی پر آخری بین الاقوامی قانونی پابندی تھا، 5 فروری کو امریکا کی جانب سے اس میں توسیع نہ کرنے کے باعث ختم ہو گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ ایک بہترمعاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس میں چین کو بھی شامل کیا جائے۔
روس نے معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد اس میں ایک سال کی توسیع کی تجویز دی تھی، تاہم اس اقدام پر امریکا کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تاہم روس نے واضح کیا کہ اگر مستقبل میں نیو اسٹارٹ کے دائرہ کار میں توسیع کی جاتی ہے تو اس میں برطانیہ اور فرانس جیسے جوہری طاقت رکھنے والے ممالک کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، جو امریکا کے اتحادی اور نیٹو کے رکن ہیں، اور ان کی جوہری صلاحیتیں کسی بھی سٹریٹجک استحکام کے معاہدے کے تحت شامل نہیں ہیں۔



