ٹاپ نیوز

عالمی یومِ ریڈیو کے موقع پر میں شعبۂ نشریات سے وابستہ تمام افسران اور کارکنان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دو بڑے قومی نشریاتی ادارے، ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن، اس وزارت کے زیرِ انتظام اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان دونوں اداروں نے اپنے قیام سے لے کر آج تک ملک میں عوامی شعور کی بیداری، بروقت معلومات کی فراہمی، ماحولیاتی آگاہی، کھیلوں، ادب اور ثقافت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور قومی زندگی کے ہر اہم مرحلے پر قوم کی رہنمائی کی ہے۔ ریڈیو پاکستان کی تاریخ ، 1965ء کے جنگ کے حوالے سے ایک منفرد قومی خدمت سے بھی عبارت ہے۔ اس اہم گھڑی اور بعد ازاں 1971ء کی جنگ کے دوران ریڈیو نے جس ولولہ انگیز انداز میں قوم کا حوصلہ بلند کیا، افواجِ پاکستان کے کارناموں کو اجاگر کیا اور پوری قوم کو ایک لڑی میں پرویا، وہ ہماری نشریاتی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ انتظامی سطح پر وزارت اطلاعات اس امر کے لیے پُرعزم ہے کہ ریڈیو پاکستان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ حال ہی میں ریڈیو پاکستان نے اپنے نظامِ پنشن کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا ہے ، جو دیگر کارپوریشنز کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال امر ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مالی نظم و ضبط بھی مزید بہتر ہوا ہے۔ ریڈیو پاکستان کو مالی طور پر مستحکم بنانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات ماضی میں بھی ریڈیو پاکستان کی مالی معاونت کرتی رہی ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی مناسب مالی تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ یہ قومی ادارہ اپنے فرائض احسن انداز میں سرانجام دیتا رہے۔ ریڈیو پاکستان نے مالی نظم و ضبط پر عمل کرتے ہوئے خود کو اس امر کا اہل ثابت کیا ہے کہ وزارت کی سرپرستی برقرار رہی تو یہ ادارہ ایک مضبوط اور مثالی کارپوریشن کے طور پر مزید ترقی کرے گا۔ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ انتظامی شفافیت، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید اصلاحات کے ذریعے ریڈیو پاکستان کو ایک فعال، باوقار اور مستحکم قومی ادارہ بنایا جائے گا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یوم ریڈیو کے موقع پر پاکستان اور دنیا بھر میں ریڈیو سے وابستہ پیشہ ور افراد، براڈکاسٹرز ، سامعین اور آڈیو کمیونیکیشن کے اہم کام میں کردار ادا کرنے والے تمام افراد کے لئے نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دن لوگوں کو معلومات فراہم کرنے، تعلیم دینے اور مختلف ثقافتوں اور علاقوں کے درمیان رابطہ قائم کرنے میں ریڈیو کے منفرد کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

عالمی یوم ریڈیو کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ایک صدی سے زائد عرصے سے ریڈیو عوامی مکالمے اور سماجی زندگی کو شکل دیتا آ رہا ہے، یہ آج بھی ایک ایسا ہم ذریعہ ہے جو مکمل توجہ مانگے بغیر تعلیم اور تفریح فراہم کرتا ہے اور لوگوں کو روزمرہ کے کاموں کے دوران باخبر رکھتا ہے۔جمعرات کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ اس سال عالمی یوم ریڈیو کا موضوع ریڈیو اور مصنوعی ذہانت کے باہمی تعلق پر مرکوز ہے، اس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز اگر اخلاقی اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال ہوں تو براڈکاسٹرز کی معاونت کر سکتی ہیں جبکہ پیشہ ورانہ رائے اور تخلیقی صلاحیت کا احترام بھی برقرار رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت رسائی بہتر بنانے، سامعین سے رابطہ مضبوط کرنے اور عوامی خدمت کی معلومات موثر انداز میں پہنچانے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ تیاری، نشریات، سامعین کے جائزے، فیڈ بیک اور تحقیق میں اس کے محتاط استعمال سے ریڈیو کو مزید تقویت مل سکتی ہے تاہم انسانی آواز اور ادارتی دیانت داری ریڈیو کی بنیادی طاقت ہیں۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان میں قیام پاکستان سے ہی ریڈیو ہمارے قومی سفر کا لازمی حصہ رہا ہے۔ ریڈیو پاکستان نے مستند معلومات کی فراہمی، ثقافتی ورثے کے فروغ اور ہماری مختلف زبانوں اور نقطہ نظر کو آواز دینے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔

قدرتی آفات سے لے کر تیز رفتار تبدیلیوں کے ادوار تک، ریڈیو نے مشکل وقت میں وضاحت اور اطمینان فراہم کیا اور معاشرے میں مکالمے کو قائم رکھا۔ آج ریڈیو پاکستان 26 زبانوں میں نشریات پیش کر رہا ہے جو کسی بھی دوسرے ذریعے کے مقابلے میں منفرد رسائی ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ریڈیو آج بھی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ یہ کھیتوں میں کسانوں کے ساتھ، طویل سڑکوں پر ڈرائیوروں کے ہمراہ اور ان گھروں میں خاندانوں کے ساتھ رہتا ہے جہاں بجلی یا انٹرنیٹ کی سہولت غیر یقینی ہو سکتی ہے۔

ہنگامی حالات میں یہ بروقت رہنمائی فراہم کرتا ہے جبکہ پرسکون اوقات میں تعلیم، ثقافت اور باہمی ربط کا احساس دیتا ہے۔ روزمرہ معمولات میں اس عملی موجودگی کی وجہ سے ریڈیو مختلف علاقوں، نسلوں اور آمدنی کے طبقات میں اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، ریڈیو کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ دنیا کے کئی حصوں میں ٹیلی ویژن دیکھنے والوں کی تعداد میں کمی کے باوجود، ریڈیو سننے والوں میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر نوجوانوں بشمول جنریشن زی میں۔ یہ رجحان یہ ریڈیو کی تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے اور اس کے روشن مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے۔

آن لائن سٹریمنگ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل براڈکاسٹنگ جیسی جدتوں کو اپنا کر ریڈیو نے اپنی رسائی بڑھائی ہے اور ریڈیو کی وہ تازگی اور قربت کےاس احساس کو برقرار رکھا ہے جو اسے خاص بناتے ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ ریڈیو بھروسے اور سب کی شمولیت کااہم ذریعہ ہے۔ یہ ان لوگوں تک بھی پہنچتا ہے جہاں دیگر ٹیکنالوجیز کی رسائی ممکن نہیں، ملک بھر کی آوازوں کو اجاگر کرتا ہے اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بناتا ہے۔

معلومات کے پیچیدہ بہا کے اس دور میں ریڈیو معتبر خبروں، عوامی خدمت کی معلومات اور ثقافتی اظہار کا قابل اعتماد ذریعہ ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ اس عالمی یوم ریڈیو پر آئیے ریڈیو سے وابستہ پیشہ ور افراد کی محنت کو سراہیں اور ذرائع ابلاغ کے اس لازوال ذریعے کی حمایت کے عزم کی تجدید کریں۔

نئی ٹیکنالوجیز کو احتیاط اور ذمہ داری سے اپناتے ہوئے ہم یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ ریڈیو تمام شہریوں کی ضروریات کے مطابق فعال، موثر اورسب کی رسائی میں رہے۔انہوں نے کہا کہ میں تمام سامعین اور ریڈیو سے وابستہ افراد کے لیے دعاگو ہوں کہ وہ ہمیشہ معاشرے کی خدمت کامیابی سے کرتے رہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button