قومی

وزراء خزانہ و آئی ٹی سے جاز ورلڈ اور ویون قیادت کی ملاقاتیں، پاکستان میں ڈیجیٹل سرمایہ کاری پر اتفاق

جازورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم اور ویون گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کان ترزی اوغلو نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ سے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے اور طویل مدتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات میں ملک کی بہتر میکرو اکنامک صورت حال اور استحکام سے ترقی کی جانب منتقلی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جاز ورلڈ کے وفد نے حکومتی اصلاحات کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز مالی شمولیت بڑھانے، معیشت کو دستاویزی بنانے اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ویون گروپ کے سی ای او اور جاز ورلڈ کی قیادت نے پاکستان میں اپنے اعتماد کا اعادہ کیا جو گزشتہ تین دہائیوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں 11 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری اور گزشتہ دس سال میں قومی خزانے میں 500 ارب روپے سے زائد کے تعاون سے ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے جازورلڈ کے وسیع ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی اہمیت پر بھی زور دیا جو کنیکٹویٹی، فِن ٹیک (جاز کیش اور موبی لنک بینک) اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے 10 کروڑ صارفین سے زیادہ کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ویون گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کان ترزی اوغلو نے کہا کہ پاکستان کے استحکام سے ترقی کی جانب منتقلی قابل اعتماد اور بروقت ہے اور ڈیجیٹل وسعت اس رفتار کو برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔

مالی شمولیت بڑھانے، رسمی معیشت کو مضبوط بنانے اور طویل مدتی سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کو فروغ دینے کے لیے نمایاں مواقع موجود ہیں۔ویون گروپ اور جاز ورلڈ کے وفد نے 190 میگاہرٹز اضافی سپیکٹرم کی حالیہ خریداری کو بھی اہم سنگ میل قرار دیا جس کی قیمت 239 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ اس سے نیٹ ورک کی صلاحیت میں اضافہ ہوا اور نیکسٹ جنریشن سروسز بشمول فائیو جی کے مرحلہ وار نفاذ اور فور جی ٹیکنالوجی کی توسیع کو ممکن بنایا گیا۔وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ سے ملاقات کے دوران ویون گروپ اور جاز ورلڈ کی قیادت نے ڈیجیٹل پاکستان ایجنڈے پر حکومتی پیش رفت کو سراہا، خصوصاً آئی ٹی برآمدات میں اضافے اور سپیکٹرم کی کامیاب نیلامی کو اہم قرار دیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ براڈبینڈ کی رسائی بڑھانے، ڈیجیٹل سہولتوں کو عام کرنے اور سکلز کی ترقی کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے، کیونکہ اب بھی بڑی آبادی موثر براڈبینڈ سہولت سے محروم ہے۔اس موقع پر جازورلڈ کے سی ای او عامر ابراہیم کا کہنا تھا کہ سپیکٹرم کے حالیہ حصول سے ہمیں ملک بھر میں معیاری کنیکٹیویٹی کو مزید بہتر بنانے کا موقع ملے گا جبکہ فائیو جی کو ان علاقوں پر متعارف کرایا جائے گا جہاں اس کی حقیقی ضرورت اور افادیت ہو۔

اسی طرح جاز کیش جیسے پلیٹ فارمز کا دائرہ کار بڑھانا مالی شمولیت کو فروغ دینے، قرض کی سہولت تک رسائی آسان بنانے اور پاکستان کو ایک باقاعدہ ڈیجیٹل معیشت کی جانب لے جانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا جو ہمارے وژن ’بیٹر لائف فار آل‘ سے ہم آہنگ ہے۔جازورلڈ اور ویون نے آئندہ تین برسوں کے دوران کنیکٹیویٹی میں بہتری، انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو وسعت دینے کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں دیرپا دلچسپی اور مستقل شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button