عالمی

عراق اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی اپنی سرحدی حدود کے نقشے واپس لے، خلیج تعاون کونسل

خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ میں جمع کرائی گئی ان حدود اور نقشوں کی فہرست واپس لے جس میں عراقی سمندری حدود کے حوالے سے دعوے کیے گئے ہیں، کیونکہ ان حدود اور نقشوں میں فشت القید اور فشت العیج سمیت کویت کی سمندری حدود اور دیگر علاقوں پر اس کی خود مختاری کو متاثر کیا گیا ہے۔

العربیہ اردو کے مطابق سیکرٹری جنرل جی سی سی نے بین الاقوامی قانون کے قواعد و ضوابط اور 1982 کے اقوامِ متحدہ کے سمندری قوانین کے معاہدے پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان قوانین کے تحت دو ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتوں، معاہدوں اور دوطرفہ یادداشتوں پر عمل کیا جانا چاہیے۔

اسی تناظر میں جاسم البدیوی نے خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کے 46 ویں سیشن کے اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کویت کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے حوالے سے اپنے موقف اور سابقہ فیصلوں کا اعادہ کیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کویت کی تمام زمینوں، جزائر اور مکمل سمندری حدود پر کسی بھی قسم کی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے دوطرفہ اور بین الاقوامی وعدوں اور اقوامِ متحدہ کی تمام متعلقہ قراردادوں کی پاسداری پر زور دیا۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل اور عراق کے درمیان باہمی احترام اور اچھی ہمسائیگی پر مبنی گہرے تاریخی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دعوے دونوں فریقین کے درمیان تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔جاسم البدیوی نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ عراق اقوامِ متحدہ میں جمع کرائی گئی حدود کی فہرست اور نقشے کو واپس لینے کی پہل کرے گا تاکہ باہمی اعتماد کو فروغ ملے، تعلقات کا استحکام برقرار رہے اور متعلقہ قانونی و بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری ہو سکے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button