عالمی

غزہ میں امن اور تعمیر نو کے لئے بورڈ آف پیس اہم فورم ہے،اب تک آٹھ جنگیں رکوائی ہیں،نویں جنگ روکنے کے قریب ہیں،امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں امن اور تعمیر نو کے لئے بورڈ آف پیس اہم فورم ہے،میں نے اب تک آٹھ جنگیں رکوائی ہیں،نویں جنگ روکنے کے قریب ہیں،پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ شدت اختیار کر رہی تھی،اس جنگ میں 11 طیارے گرائے گئے،ہم نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس جنگ کو رکوایا،بھارت کے وزیراعظم مودی کو بتا دیا تھا کہ جنگ نہ روکی تو بھاری ٹیرف لگائوں گا، چین کے صدر کے ساتھ میرے بہترین تعلقات ہیں، ایران کے ساتھ بھی بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں ڈونلڈ ٹرمپ انسٹیٹیوٹ آف پیس میں غزہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، انڈونیشیا، آذربائیجان اور قازقستان کے صدور، اردن کے شاہ عبداللہ، ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت بورڈ آف پیس کے رکن ممالک کے دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ بورڈ آف پیس کے ارکان کو اجلاس میں خوش آمدید کہتا ہوں، پائیدار امن کے قیام کے لیے بورڈ آف پیس اہم فورم ہے ،اپنے اہداف اور اہمیت کے حوالے سے بورڈ آف پیس کا کوئی متبادل نہیں ،غزہ ایک پیچیدہ اور مشکل معاملہ ہے، غزہ میں امن اور تعمیر نو کے لیے اس فورم کی بہت اہمیت ہے۔انہوں نے کہا کہ امن سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہے، میں نے اپنے دور صدارت میں اب تک آٹھ جنگیں رکوائی ہیں، نویں جنگ خاتمے کے قریب ہے، آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان 32 سال سے جنگ ہو رہی تھی، میں نے ان دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ کرایا، آرمینیا اور آذر بائیجان نے امن کا انتخاب کرتے ہوئے معاہدہ کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر پاک بھارت جنگ کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ شدت اختیار کر رہی تھی،اس جنگ میں 11 طیارے گرائے گئے،ہم نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس جنگ کو رکوایا، وزیراعظم شہباز شریف نے مجھے بتایا کہ میں نے جنگ بند کرا کے لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے قریبی تعلقات قائم ہوئے، میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بند کرانے کے لیے تجارت کو استعمال کیا،بھارت کے وزیراعظم مودی کو بتا دیا تھا کہ جنگ نہ روکی تو بھاری ٹیرف لگائوں گا۔انہوں نے کہا کہ چین کے صدر کے ساتھ میرے بہترین تعلقات ہیں، ایران کے ساتھ بھی بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں، غزہ کے لوگوں کا روشن مستقبل چاہتے ہیں، دوست ممالک کے تعاون سے غزہ جنگ بندی میں کامیاب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، یو اے ای ،مراکش، کویت، قازقستان اور دوسرے ممالک کی طرف سے عطیات کا اعلان خوش آئند ہے، غزہ کی تعمیر نو کے لیے 7 ارب ڈالر کے عطیات کا وعدہ کیا گیا ہے،امریکہ بورڈ آف پیس کے لیے 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا، غزہ فنڈ ریزنگ کے لیے جاپان کانفرنس کا انعقاد کرے گا۔اس کا مقصد سالہاسال سے جاری جنگ کا خاتمہ کرنا اور خطے میں امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں بہت صلاحیت ہے لیکن وہ اپنی صلاحیتوں پر پورا نہیں اترا، اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ بورڈ آف پیس کے اجلاس کے آغاز پر رکن ممالک کے رہنمائوں کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گروپ فوٹو ہوا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button