ایس اے یو اور ہوپو کینیڈا کا سندھ میں 100 کاربن نیوٹرل دیہات قائم کرنے کا منصوبہ

سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام اور ہوپو کینیڈا کی نے سندھ بھر میں 100 کاربن نیوٹرل گاؤں قائم کرنے کے مشترکہ پروگرام کا آغاز کردیا ہے۔ اس ضمن میں 6 گاؤں پر کام شروع ہو چکا ہے۔اس منصوبے کا مقصد موسمیاتی تبدیلی، غذائی قلت اور دیہی غربت جیسے باہم جڑے چیلنجز سے سائنسی بنیادوں پر کمیونٹی اقدامات کے ذریعے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے۔اس سلسلے میں سندھ زرعی یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں رمضان 2026 کی مناسبت سے ایک تقریب منعقد کی گئی، جس میں کاربن ایکشن ٹوکنز (CATs) کی تقسیم، طلبہ میں سمسٹر فیس کے چیکس کی فراہمی اور اسپرنگ ٹری پلانٹیشن مہم کا افتتاح کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال تھے۔ خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ طلبہ میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینا اور فطرت پر مبنی حل کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوپو کینیڈا کی جانب سے کیا جانے والا سروے نہ صرف طلبہ کے مالی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ پانی، خوراک اور دیگر بنیادی وسائل کی کمی والے علاقوں کی بھی مؤثر نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے منصوبوں اور اسٹارٹ اپس کے ذریعے طلبہ کو دورانِ تعلیم ہی خود کفیل اور کاروباری صلاحیتوں کا حامل بنایا جا رہا ہے، جس میں یونیورسٹی ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کے ہوپو کی معاونت سےسندھ میں 100 کاربن نیوٹرل دیہات قائم کیے جائیں گے، جبکہ طلبہ کو انٹرپرینیورشپ کی طرف لانا، انہیں اسٹارٹ اپس کے ذریعے خود مختار بنانا اور دورانِ تعلیم کاروباری صلاحیتیں فراہم کرنا شامل ہے۔کاربن ایکشن ٹوکنز پروگرام نوجوانوں کو موسمیاتی سرگرمیوں سے جوڑنے کا ایک منفرد ماڈل ہے، جس کے ذریعے طلبہ نہ صرف ماحول کے محافظ بن رہے ہیں بلکہ اپنی تعلیم جاری رکھنے میں بھی کامیاب ہو رہے ہیں۔ڈین فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن پروفیسر ڈاکٹر عبدالمبین لودھی نے کہا کہ منصوبے کے اہم حصوں میں بایوچار کی مدد سے مورنگا اور پھلدار درختوں کی شجرکاری شامل ہے، جس کا مقصد کاربن ذخیرہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی ہے۔ اس کے علاوہ موسمیاتی اسمارٹ مویشی پالنے کے طریقوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ چھ دیہات کے 109 مویشی پال افراد کو سائیلیج تیار کرنے اور محفوظ رکھنے کی تربیت دی جا چکی ہے۔
پروجیکٹ کے فوکل پرسن ڈاکٹر عبدالوحید سولنگی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں چھ دیہات کو ماڈل سائٹس کے طور پر منتخب کیا گیا ہے جہاں کاربن اخراج میں کمی اور مقامی افراد کے روزگار میں اضافے کیلئے پائیدار طرزِ زندگی کے ماڈلز متعارف کروائے جا رہے ہیں۔کمیونٹی کی نگرانی میں فوڈ بینکس اور غذائیت سے بھرپور مورنگا کی کاشت جیسے غذائی تحفظ کے نظام بھی قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ غذائی قلت سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جا سکے جبکہ طلبہ کے اسٹارٹ اپس جیسے “ایگری کلیما اے آئی” اور “مورنگا انڈا پراٹھا” ابتدائی تجارتی کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔کاربن ایکشن ٹوکنز پروگرام کے تحت درجنوں طلبہ موسمیاتی سرگرمیوں کے بدلے ماہانہ مراعات حاصل کر رہے ہیں جن میں سے 19 طلبہ اپنی سمسٹر فیس ادا کرنے میں کامیاب ہوئے۔اس شراکت داری کے تحت یونیورسٹی میں بنیادی سہولیات کی بہتری کیلئے شمسی توانائی سے چلنے والا ریورس اوسموسس واٹر پلانٹ، واٹر کولرز، ڈیپ فریزر اور ہاسٹلز کیلئے سولر واٹر پیوریفکیشن یونٹس کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
پروجیکٹ قیادت نے “مشن 2026” کے تحت 10 دیہات میں 10 ہزار مورنگا و پھلدار درخت لگانے، طلبہ کے پانچ نئے کاروباری منصوبے شروع کرنے اور بائیو گیس پلانٹس و ہربل مسٹ ٹیکنالوجی پر تحقیقی منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا، آخر میں فیکلٹی آف کراپ پروٹیکش کے سامنے وائیس چانسلر ، ڈین، اساتذہ اور طلبہ نے مورنگا کے 100 پودے لگائے۔



