قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کااجلاس،وزارتِ آبی وسائل کے جاری منصوبوں کی منظوری

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس بدھ کو ممبر قومی اسمبلی احمد عتیق انور کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد وزارتِ آبی وسائل کے جاری منصوبوں کی منظوری دی۔
کمیٹی نے زور دیا کہ سندھ میں لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) سے متعلق کسی بھی مسئلے کو وفاقی اور صوبائی نمائندگان کے درمیان قریبی رابطہ کاری کے ذریعے ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسے معاملات خوش اسلوبی اور بلا تاخیر نمٹائے جائیں۔ مزید برآں کمیٹی نے سفارش کی کہ کچھی کینال منصوبے کے تحت بھرتی کئے گئے ملازمین سے متعلق جامع معلومات، بشمول ان کی مکمل تفصیلات اور ڈومیسائل کی حیثیت، جلد از جلد کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔
کمیٹی کے مطابق یہ اقدام بھرتی کے عمل میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، کمیٹی نے پٹ فیڈر کینال منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دینے کی بھی سفارش کی اور اسے صوبہ بلوچستان کے لیے ایک اہم وفاقی اقدام قرار دیا۔
کمیٹی نے خطے میں آبی وسائل کے مسائل کے حل میں اس منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس کی پیش رفت، دائرہ کار اور عملدرآمد کی حکمت عملی پر مکمل آگاہی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں ممبر قومی اسمبلی میاں خان بگٹی، شمائلہ رانا، سید جاوید علی شاہ جیلانی (بذریعہ زوم)، ذوالفقار علی بہان، شازیہ مری، وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو اور وزارتِ آبی وسائل کے حکام نے شرکت کی۔



