قومی

حکومت تمام شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے ،احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کو "اُڑان پاکستان” پروگرام کے پانچ ستونوں پر نافذ کر رہا ہے تاکہ ملک کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی جانب گامزن کیا جا سکے، وژن 2010 اور وژن 2025 کے تحت 10 ہزار سے زائد اسکالرشپس فراہم کی گئیں، جس سے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور جدید ٹیکنالوجیز میں ہنر مند افرادی قوت کی مضبوط بنیاد رکھی گئی۔

اس کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، جی آئی ایس، جینومکس، نینو ٹیکنالوجی اور اطلاقی ریاضی کے قومی مراکز قائم کئے گئے، جو تحقیق، سیکھنے اور عملی حل کے لیے اہم پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار انڈس ہفتہ مصنوعی ذہانت کے موقع پر منعقدہ قومی ورکشاپ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انڈس ہفتہ مصنوعی ذہانت (9 تا 14 فروری) کے موقع پر ایک منفرد قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس کا مشترکہ اہتمام یو این ڈی پی، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور وزارتِ منصوبہ بندی نے کیا۔ ورکشاپ کا مقصد ترقیاتی حکمت عملی کو شفاف، شمولیتی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اداروں کے درمیان ہم آہنگی، پالیسی مکالمے اور عملی مصنوعی ذہانت (AI) تیاری کا جائزہ لینا تھا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاکہ حکومت تمام شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے تاکہ خدمات کی فراہمی مؤثر ہو، ترقیاتی پروگراموں کے نتائج بہتر ہوں اور وسائل کا بہترین استعمال ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے انسانی وسائل میں سرمایہ کاری، تعلیم و تحقیق کے فروغ اور نوجوانوں کو چوتھے صنعتی انقلاب کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے بتایا کہ قومی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جن میں کوانٹم کمپیوٹنگ، نینو ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ شامل ہیں، جبکہ "کوانٹم ویلی” منصوبہ بھی شروع کیا جا رہا ہے جو ٹیکنالوجی، معدنیات، زرعی ٹیکنالوجی اور بایوسائنسز پر مشتمل جامع جدت طرازی ماڈل ہوگا۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور انسانی ذہانت کا امتزاج ملک کو چیلنجز سے نکال کر مواقع کی جانب لے جا سکتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر معیشت بنانے کے ہدف کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی، جدت اور شمولیت پر مبنی پالیسیوں کو عملی شکل دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وژن 2010 سے لے کر موجودہ دور تک پاکستان کا سفر کھپت سے تخلیق، ضابطوں سے ذہانت اور صلاحیت سے کارکردگی کی طرف رہا ہے اور حکومت ٹیکنالوجی کو اخلاقیات اور جدت کو شمولیت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے مستقبل کی معیشت کی بنیاد رکھ رہی ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری سے پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے رہنمائوں کی ملاقات

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button