پاکستان جاپان کے ساتھ اپنے تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے، پاکستان کی ترقی میں جاپان کے دیرینہ کردار کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، صدر مملکت آصف علی زرداری کا جاپان کے شہنشاہ ناروہیتو کی 66 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ سے خطاب

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان جاپان کے ساتھ اپنے تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان یہ شراکت داری اعتماد، تسلسل اور باہمی احترام پر مبنی ہے جو کئی دہائیوں پر محیط سفارتی تعلقات کے دوران بتدریج فروغ پاتی رہی ہے، پاکستان کی ترقی میں جاپان کے دیرینہ کردار کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں جاپان کے شہنشاہ ناروہیتو کی 66 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب میں سیاسی رہنماؤں، پاکستان میں متعین غیر ملکی سفیروں، پارلیمنٹرینز، زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور صحافیوں نے شرکت کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ مجھے آج اس پروقار تقریب میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے جہاں ہم جاپان کے شہنشاہ ناروہیتو کی سالگرہ منارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس موقع پر جاپان کی ملکہ کو بھی اپنے پرخلوص اور باوقار تہنیتی جذبات پیش کرتا ہوں۔ صدر آصف علی زرداری نے جاپان کی حکومت اور عوام کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے شاندار استقبالیے کے انعقاد پر پاکستان میں جاپان کے سفیر کا شکریہ ادا کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ جاپان دنیا بھر میں اپنی غیر معمولی تکنیکی کامیابیوں اور بھرپور ثقافتی ورثے کے باعث بے حد قابل تحسین سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاپانی عوام نظم و ضبط اور وقار کو بڑی اہمیت دیتے ہیں، وہ خاندان اور معاشرے کی قدر کرتے ہیں اور روایات کا احترام کرتے ہوئے بتدریج ترقی اور جدت کو اپناتے ہیں، ان خوبیوں کو پاکستان میں اچھی طرح سمجھا اور سراہا جاتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان جاپان سے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، یہ اعتماد، مستقل مزاجی اور باہمی احترام پر مبنی ایک ایسی شراکت ہے جو کئی دہائیوں سے سفارتی تعلقات میں مستقل طور پر فروغ پا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان نے مشکل اوقات میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، جب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات نے ہمارے عوام کو متاثر کیا تو جاپان نے ہمدردی اور عملی معاونت فراہم کی۔
صدرمملکت نے کہا کہ فوری امداد کے علاوہ ترقیاتی تعاون اور آفات سے نمٹنے کی تیاری کے شعبوں میں جاپان کی مسلسل شمولیت کو پاکستان میں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کے اثرات وسیع پیمانے پر محسوس کئے گئے ہیں، اس تعاون پر ہم تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جاپان کو تکنیکی مہارت اور جدت کا ایک مثالی نمونہ سمجھتا ہے، ہم جاپان کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے مہارتوں کی ترقی، ادارہ جاتی مضبوطی اور اپنی نوجوان نسل کو مستقبل کےلئے تیار کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں 80 سے زائد جاپانی کمپنیاں سرگرم عمل ہیں، یہ کمپنیاں ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں، روزگار کے مواقع اور قیمتی مہارت و تجربہ فراہم کررہی ہیں، ان کی موجودگی پاکستان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے ایشیا کے سنگم پر واقع ہے جہاں تجارتی راستے، توانائی راہداریوں اور علاقائی منڈیوں کا باہمی اتصال ہوتا ہے، یہ مقام مواقع بھی فراہم کرتا ہے اور ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہم پاکستان کی ترقی میں جاپان کے دیرینہ کردار کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جیکا) کا کام پائیدار اور عوام دوست ترقی کےلئے جاپان کے عزم کی ایک نمایاں اور قابل احترام علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جاپان مضبوط خاندانی نظام، سماجی ہم آہنگی اور انسانی وقار کے احترام جیسے مشترکہ اقدار پر یقین رکھتے ہیں، یہی مشترکہ اصول ہماری شراکت داری کو گہرائی اور مضبوطی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان-جاپان تعلقات بامقصد، واضح سمت اور مشترکہ عزائم کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے رہیں گے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر جاپان کے شہنشاہ کو سالگرہ کی دلی مبارکباددی جبکہ ملکہ کے لئے نیک تمنائوں اور جاپان کے عوام کےلئے امن، ترقی اور مسلسل خوشحالی کی خواہشات کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کو انتخابات میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کو میری مرحومہ اہلیہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو پر فخر ہے جو عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ قبل ازیں تقریب میں اسلام آباد میں دہشت گردی کے حالیہ واقعہ میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔اس سے قبل تقریب کا آغاز پاکستان اور جاپان کے قومی ترانوں کی دھنوں سے ہوا جبکہ اس موقع پر صدر مملکت نے دیگر مہمانوں کے ہمراہ کیک بھی کاٹا۔



