ہیوسٹن کے میئر کا وفاقی امیگریشن ادارے ICE سے مقامی پولیس کا تعاون محدود کرنے کا حکم

ہیوسٹن ٹیکساس: 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹیکساس میں سیاسی تبدیلی کے اثرات فوری طور پر سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، امریکا کے چوتھے بڑے شہر ہیوسٹن کے میئر جان وائٹمائر نے وفاقی امیگریشن ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ساتھ مقامی پولیس کا تعاون محدود کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کردیا۔
نئے حکم نامےکے تحت معمولی ٹریفک خلاف ورزیوں اور ایسے غیر متشدد جرائم میں جن میں قید کی سزا نہیں ہوتی، ہیوسٹن پولیس معمول کے مطابق وفاقی امیگریشن حکام سے رابطہ نہیں کرے گی، کسی شخص کی مشتبہ یا حقیقی امیگریشن حیثیت بذاتِ خود ICE سے رابطہ کرنے، حراست طویل کرنے یا پولیس تحویل میں رکھنے کی بنیاد نہیں بنےگی۔
جمعےکو پولیس چیف جے نوئے ڈیاز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں میئر وائٹمائر نے اس فیصلے کو امیگریشن قوانین کے نفاذ کا نیا طریقہ قرار دیا، انہوں نے کہا کہ پولیس کی ترجیح وہ افراد ہونے چاہئیں جو عوامی تحفظ کے لیے حقیقی خطرہ ہیں نہ کہ وہ تارکینِ وطن جو اپنے خاندانوں کے ساتھ پُرامن زندگی گزار رہے ہیں، روزگار کما رہے ہیں یا تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
میئر کے مطابق معمولی ٹریفک خلاف ورزی پر اہلکار متعلقہ شخص کو ٹکٹ یا وارننگ دے کر جانے دیں گے، اس فیصلے کا مقصد تارکینِ وطن کمیونٹیز میں پائے جانے والے خوف اور عدم تحفظ کو کم کرنا اور پولیس اور شہریوں کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے۔
پولیس چیف نوئے ڈیاز نے بتایا کہ نئی ہدایات کے مطابق معمول کے سول امیگریشن وارنٹ کی بنیاد پر پولیس ICE سے خودکار رابطہ نہیں کرے گی تاہم اگر کسی شخص کو ایسے جرم میں گرفتار کیا جائے جس میں جیل کی سزا ہوسکتی ہے اور اس کے خلاف امیگریشن وارنٹ بھی موجود ہو تو پولیس مقررہ طریقہ کار کے مطابق وفاقی حکام کو اطلاع دے سکے گی، اسکے بعد زیرِ حراست شخص سے متعلق کارروائی ہیرس کاؤنٹی جیل اور متعلقہ حکام کے دائرہ اختیار میں ہوگی۔
میئر وائٹمائر نے انتخابی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات اہمیت رکھتے ہیں اور عوامی فیصلے حکومتی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ ریاستی انتظامیہ کی باقی ماندہ مدت کے دوران بھی اس فیصلےکی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہیں۔
3نومبر کے انتخابات میں ڈیموکریٹ جینا ہینو ہوزا نے صدر ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے اہم حامی گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دی تھی اور 32 سال بعد گورنر ہاؤس ڈیموکریٹس کے پاس جارہا ہے۔
واضح رہے کہ 2026 میں ہیوسٹن سٹی کونسل نے وہ پالیسی ختم کرنےکی کوشش کی تھی جس کے تحت پولیس کو امیگریشن وارنٹ والے افراد کے معاملے میں ICE اہلکاروں کا 30 منٹ تک انتظار کرنا پڑتا تھا، اس پر گورنر ایبٹ نے ہیوسٹن کی تقریباً 110 ملین ڈالر کی پبلک سیفٹی گرانٹس روکنے کی دھمکی دی تھی۔
ایبٹ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ یہ پالیسی 2017 کے ریاستی قانون SB 4 سے متصادم ہوسکتی ہے جو مقامی اداروں کو وفاقی امیگریشن قوانین کے نفاذ میں تعاون محدود کرنے سے روکتا ہے، اس دباؤ کے بعد شہری انتظامیہ نے پالیسی واپس لے لی تھی اور پولیس کو امیگریشن وارنٹ سامنے آنے پر وفاقی حکام سے رابطے کی ہدایت دی گئی تھی۔
اب میئر نے دوبارہ پالیسی تبدیل کردی ہے تاہم SB 4 بدستور نافذ ہے، اس لیے نئے حکم نامے کو قانونی چیلنج کا سامنا ہوسکتا ہے۔
یہ فیصلہ ہیوسٹن میں امیگریشن حکام کی بعض کارروائیوں کے خلاف بڑھتے عوامی ردعمل کے پس منظر میں بھی سامنے آیا ہے، 7 جولائی کو وفاقی امیگریشن اہلکار کی فائرنگ سے 52 سالہ میکسیکن نژاد تعمیراتی کارکن لورینزو سالگاڈو آراؤخو ہلاک ہوگئے تھے جو تقریباً 35 سال سے امریکا میں مقیم تھے۔
وفاقی حکام کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے اپنی گاڑی سے اہلکار کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی جبکہ اہلخانہ اور بعض عینی شاہدین نے اس مؤقف سے اختلاف کیا، واقعے کے بعد شہر میں احتجاج ہوا اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
10اکتوبر کو ICE اہلکار ماریو البرٹو مورالیس کی گاڑی کی زد میں آکر میکسیکن شہری میگوئل پارا ہرنانڈیز کی ٹانگ ٹوٹ گئی، ہیرس کاؤنٹی کی گرینڈ جیوری نے 30 اکتوبر کو مورالیس پر گاڑی کو مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے سنگین حملے کی فردِ جرم عائد کی۔
استغاثہ کے مطابق نگرانی کےکیمروں کی ویڈیو میں اہلکار کی گاڑی فرار ہوتے شخص کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے جبکہ ICE اور اہلکار کے وکلا کا کہنا ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا حملہ نہیں تھا، مقدمہ زیر سماعت ہے اور الزام ابھی ثابت نہیں ہوا۔
دوسری جانب تارکینِ وطن کے حقوق کی تنظیم FIEL کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیزر ایسپینوسا نے حکم نامےکا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے ان خاندانوں کو اطمینان ملے گا جو بچوں کو اسکول لے جاتے یا روزمرہ کام کرتے ہوئے بھی پولیس کا سامنا کرنے سے خوفزدہ رہتے ہیں، سٹی کنٹرولر کرس ہولنز نے فیصلے کو مثبت ابتدائی قدم قرار دیا تاہم سوال اٹھایا کہ میئر نے اس کے لیے انتخابی نتائج کا انتظار کیوں کیا جبکہ کمیونٹی کئی ماہ سے یہ مطالبہ کررہی تھی۔
دوسری جانب ICE نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتوں کو امیگریشن قوانین کے نفاذ میں تعاون محدود نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وفاقی اہلکار اپنے قانونی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ میئر کا حکم نامہ آئیس اہلکاروں کی کارروائیوں پر براہِ راست پابندی عائد نہیں کرتا اور نہ ہی غیر قانونی امیگریشن کو قانونی حیثیت دیتا ہے، اس کا تعلق صرف ہیوسٹن پولیس کے مقامی طریقہ کار سے ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اب سوال یہ ہےکہ کیا ڈیلاس، آسٹن اور سان انتونیو جیسے دیگر بڑے شہر بھی ہیوسٹن کی پیروی کریں گے۔
نومنتخب گورنر جنوری 2027 میں عہدہ سنبھالیں گی جبکہ موجودہ ری پبلکن انتظامیہ کی مدت ابھی باقی ہے، اس لیے آنے والے ہفتوں میں مقامی، ریاستی اور وفاقی اختیارات کے درمیان قانونی کشمکش شدت اختیار کرسکتی ہے۔



