غربت میں کمی انسانی ترقی کے بغیر ممکن نہیں ہے، بی آئی ایس پی مستحق ماؤں اور بچوں کو مالی مدد اور غذائی سہولیات فراہم کر رہا ہے ، وفاقی وزیر تخفیف غربت

وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو غذائی قلت جیسے سنگین مسئلے کا سامنا ہے، غربت میں کمی انسانی ترقی کے بغیر ممکن نہیں ہے، بی آئی ایس پی مستحق ماؤں اور بچوں کو مالی مدد اور غذائی سہولیات فراہم کر رہا ہے جس سے اب تک 43 لاکھ سے زائد مستحق خواتین اور ان کے بچے مستفید ہو چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اہم غذائی پروگرام بینظیر نشوونما پروگرام کے ریئل ٹائم ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے قیام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیرنے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صحت اور سماجی تحفظ کے نظام میں نگرانی کو بہتر بنانا اور ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلہ سازی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سماجی تحفظ کو خیرات نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سرمایہ کاری سمجھتی ہےاور وزیراعظم کے وژن کے مطابق اس پروگرام میں شفافیت اور مؤثریت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
تقریب میں چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد ،کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ فوڈ پروگرام کوکو اوشیاما اور ترقیاتی شراکتی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ملک اسی وقت ترقی کرے گا جب سب مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی توجہ فیلڈ پر ہے کیونکہ اصل مسائل کی نشاندہی وہیں سے ممکن ہے۔ روبینہ خالد نے کہا کہ یہ پروگرام بچوں کی بہتر نشوونما اور لڑکیوں میں غذائی کمی پوری کرنے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے وزارتِ صحت اور شراکت دار اداروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے نشوونما پروگرام کے تمام اقدامات کی مؤثر اور بروقت نگرانی ممکن ہو سکے گی،یہ اقدام نظام میں شفافیت اور جواب دہی کو بہتر بناتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سہولیات ان لوگوں تک پہنچیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے ورلڈ فوڈ پروگرام، یونیسف اور عالمی ادارہ صحت کے تکنیکی تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا ۔



