پاکستان مارچ کے آخری ہفتے میں وفاقی دارالحکومت کرغز کلچرل فیسٹیول کے ذریعے وسط ایشیا کی رنگارنگ ثقافت کے شاندار استقبال کی تیاریاں کر رہا ہے، اورنگزیب کھچی

پاکستان وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مارچ 2026 کے آخری ہفتے میں منعقد ہونے والے کرغز کلچرل فیسٹیول کے ذریعے وسط ایشیا کی رنگارنگ ثقافت کے شاندار استقبال کی تیاریاں کر رہا ہے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر منعقد ہونے والا یہ دو روزہ میلہ کرغز ورثے کی بھرپور عکاسی کرے گا جس میں دستکاری، روایتی کھانے،ملبوسات، فنونِ لطیفہ اور فوٹو گرافی کی نمائشیں، فلموں کی اسکریننگ اور موسیقی و رقص کی پرفارمنس شامل ہوں گی، پاکستان ،کرغزستان سے آنے والے وفد کی بھرپور میزبانی کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت محمد اورنگزیب خان کھچی نے اپنے خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کی ابھرتی ہوئی ثقافتی سفارت کاری پر گفتگو کرتے ہوئے ایک جامع ایجنڈے کی تفصیل بیان کی جس میں بین الاقوامی شراکت داریوں، ورثے کے تحفظ اور ادارہ جاتی اصلاحات شامل ہیں جس سے ایک ایسے پاکستان کی تصویر ابھرتی ہے جو اپنی قدیم تہذیبی وراثت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے تیار ہے۔کرغز تقریبات کے علاوہ پاکستان نوروز کی تقریبات کی میزبانی کی بھی تیاری کر رہا ہے اور ان ممالک کو دعوت نامے ارسال کیے جا رہے ہیں جن کے ساتھ پاکستان کےسفارتی تعلقات ہیں جن میں کرغزستان بھی شامل ہے۔یہ تقاریب ثقافتی روابط کی ایک وسیع حکمت عملی کی عکاس ہیں جسے پاکستان کے پُرامن تشخص کو اجاگر کرنے اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینے کے لیے ناگزیر ہیں۔
وفاقی وزیر نے ایک اہم سنگِ میل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر ملک جلد قومی ثقافتی پالیسی کا اجرا کرے گا،تمام صوبوں کی مشاورت سے تیار کی گئی یہ پالیسی پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ اور فنکاروں و ادیبوں کو بااختیار بنانے کا مقصد رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک قومی مشن ہے جس کامقصد دنیا کے سامنے پاکستان کے پُرامن اور قدیم تہذیبی تشخص کو اجاگر کرنا ہے۔ قومی ثقافتی پالیسی کے اجرا کے ساتھ پاکستان ثقافتی سفارت کاری، ورثے کے تحفظ اور مثبت تشخص کے فروغ کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا،پاکستان کے ثقافتی عزائم کا دائرہ کار اس کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی شراکتی نیٹ ورک سے واضح ہوتا ہے،وزارت کا منصوبہ ہے کہ ثقافتی معاہدوں کی تعداد کو موجودہ تقریباً 86 ممالک سے بڑھا کر جلد 125 تک پہنچایا جائے، جس سے فنی اور تعلیمی تبادلوں کا ایک وسیع جال قائم ہوگا۔
سال کے اختتام تک پاکستان کا پہلا ڈگری دینے والا ادارہ برائے فنونِ لطیفہ قائم ہو جائے گاجبکہ لوک ورثہ میں پہلے ہی آرٹ کلاسز کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل لائبریری، اکادمی ادبیات پاکستان اور قومی ادارہ برائے فروغِ قومی زبان میں ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات جاری ہیں تاکہ پاکستان کے ادبی و لسانی سرمائے کو محفوظ اور آئندہ نسلوں کے لیے قابلِ رسائی بنایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے آثارِ قدیمہ کے ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے دستاویزی فلمیں بھی تیار کی جا رہی ہیں جو قدیم مقامات سے لے کر ملک کی متنوع ثقافتی روایات تک پاکستان کے ثقافتی اثاثوں کی وسعت کو اجاگر کریں گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی بین الاقوامی حکمت عملی میں ثقافت اور ورثے کو مرکزی حیثیت دے رہا ہے۔
نے کہا کہ حالیہ ثقافتی کامیابیاں اس عزم کا مظہر ہیں کہ پاکستان مشترکہ ورثے کے ذریعے بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔انہوں نے اسلام آباد میں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے زیر اہتمام، یونُس امرے انسٹیٹیوٹ اور پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے اشتراک سے منائے گئے پاک۔ترک دوستی ہفتے کا بھی ذکر کیاجس میں ثقافتی پرفارمنس،روایتی موسیقی اور لوک فنون کے ذریعے پاکستان اور ترکی کے درمیان گہری دوستی، مشترکہ ورثے اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ہفتہ بھر جاری رہنے والی تقریبات اس بات کا ثبوت تھیں کہ ثقافتی تبادلہ سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط اور عوامی روابط کو دیرپا بنا سکتا ہے۔
پاکستان کی حالیہ ثقافتی کاوشوں میں سب سے اہم کامیابی دسمبر 2025 میں حاصل ہوئی جب یونیسکو نے باضابطہ طور پر ’’بورینڈو‘‘ کو فوری تحفظ کی ضرورت والے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی کاوشوں سے حاصل ہونے والی یہ کامیابی پاکستان کی قدیم موسیقی روایات کے لیے باعثِ فخر اور سنگِ میل ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے نامزد اور لوک ورثہ کی حمایت سے پیش کیا گیا بورینڈو ایک چھوٹا، گول مٹی کا ساز ہے جس کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پرانی مانی جاتی ہے اور جو وادیٔ سندھ کی تہذیب سے منسلک ہے۔ اس کی مدھم اور دلنشین آواز صدیوں سے دیہی روایات اور سردیوں کی محفلوں میں گونجتی رہی ہے۔



