قومی

برآمدات پر مبنی معیشت اور صوبائی اور ضلعی سطح پر مشتمل صنعتی یونٹس کے ذریعے میکرو اکنامک نمو ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی معیشت اور صوبائی اور ضلعی سطح پر مشتمل صنعتی یونٹس کے ذریعے میکرو اکنامک نمو ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے آڈیٹوریم میں منعقدہ غربت اور عدم مساوات کے تخمینے25۔ 2024 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کی جانب پیشرفت کو آگے بڑھاتے ہوئے مقامی صلاحیتوں کو کھولنے اور نچلی سطح پر غربت کے خاتمے کے لیے ضلع اور صوبائی سطحوں پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور کاٹیج انڈسٹریز کے فروغ پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم اور وسائل کی مساوی تقسیم کے ساتھ برآمدی ترقی قومی اور صوبائی دونوں سطحوں پر غربت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ کوویڈ۔ 19 کے دوران عالمی غذائی افراط زر کے سپر سائیکل کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تباہی جیسے سیلاب اور اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے قومی غربت 21.9 فیصد سے بڑھ گئی۔انہوں نے کہا کہ معاشی چیلنجز کا ایک حصہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت والی سابقہ ​​حکومت کی پالیسیاں تھیں جس کی وجہ سے معاشی بدانتظامی اور سیاسی عدم استحکام نے ملک کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ تین پروگراموں میں داخل ہونے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے معاہدوں کے تحت سبسڈی میں کمی سمیت سخت اصلاحاتی اقدامات نے غربت کی سطح کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ حکومت کی ضرورت سے زیادہ درآمدات نے معیشت کو نقصان پہنچایا ۔ درآمدات کا حجم 80 ارب ڈالر تک پہنچا جس کے نتیجے میں 50 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) نے غربت میں واضح کمی اور پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کے پاس اب وفاق کے مقابلے پی ایس ڈی پی کے وسائل کا بڑا حصہ ہے صوبائی حکومتوں کو غربت سے نمٹنے کے لیے جامع صوبائی حکمت عملی اپنانا ہوگی جس سے صوبائی سطح پر غربت میں کمی کی کوششوں پر براہ راست اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات سالوں میں شہری غربت 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ اسی عرصے کے دوران دیہی غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے حصول اور جی ڈی پی کو بڑھانے کے لیے معاشی استحکام ضروری ہے جس سے غربت میں معنی خیز کمی واقع ہو سکتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ صوبوں کے اندر وسائل کی غیر مساوی تقسیم غربت اور عدم مساوات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی ان اضلاع میں جڑ پکڑتی ہے جہاں تفاوت اور محرومی وسیع ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے پسماندہ اضلاع میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ ’’

زیرو پاورٹی‘‘ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ چھوٹے صنعتی یونٹس کے قیام کے ذریعے ممکنہ اضلاع کی ٹارگٹڈ ترقی اولین ترجیح ہے ۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button