قومی

وفاقی محتسب کا ادارہ عوامی شکایات کے جلد از جلد ازالے کی مسلسل کوششوں کی بدولت ایک غریب آدمی کی عدالت کے طور پر سامنے آیا ہے، اعجاز احمد قریشی

وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا ہے کہ عوامی شکایات کے جلد از جلد ازالے کی مسلسل کوششوں کی بدولت وفاقی محتسب کا ادارہ ایک غریب آدمی کی عدالت کے طور پر سامنے آیا ہے اور عوام کا بھرپور اعتماد حاصل کر چکا ہے۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز ٹیکس محتسب سر وس تنزانیہ کے 17 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ تنزانین وفد کی قیادت ایراسمس ونسنٹ متوئی نے کی۔

دورے کے دوران وفد کو وفاقی محتسب کے کام، طریقہ کار اور اہم اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفاقی محتسب نے بتایا کہ سال 2025ء کے دوران ان کے ادارے نے 261,101 شکایات کے فیصلے کیے جو کہ ایک ریکارڈ ہیں جبکہ سال 2024ء میں فیصلوں کی تعداد 223,198 تھی۔ انہوں نے بتایا کہ شکایات اور فیصلوں میں یہ اضافہ ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں علاقائی دفاتر کے قیام، کھلی کچہریوں کے انعقاد، آئی آر ڈی پروگرام اور سرکاری دفاتر کے دوروں جیسے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

وفاقی محتسب نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران ان کے فیصلوں پر 96.8 فیصد عملدرآمد ہوا جو بے مثال شرح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ملک کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں تک آسان رسائی اور بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے متعدد علاقائی دفاتر اور شکایات سینٹر قائم کیے گئے اور اب یہ ادارہ ملک کے 28 شہروں میں موجود ہے جو عوام کو ان کے گھر کے قریب انصاف فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

اعجاز احمد قریشی نے دونوں ممالک کے محتسب اداروں کے درمیان تجربات اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے پر خصوصی زور دیا۔ تنزانیہ کے وفد کے سربراہ نے وفاقی محتسب کے ادارے کی نمایاں کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ عوام کو نہایت مفید خدمات فراہم کر رہا ہے اور دونوں اداروں کے درمیان قریبی پیشہ ورانہ روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔وفد نے دورے کے دوران ایشین ایمبڈسمین ایسوسی ایشن (اے او اے) کے دفتر کا بھی دورہ کیا جس کے بارے میں انہیں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button