سندھ جلد آئی ٹی اور اے آئی کا مرکز بنے گا، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سیلانی اے آئی انڈسٹری ویک اور آئی ٹی داخلہ امتحان کی تقریب میں بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بالخصوص سندھ جلد آئی ٹی اور اے آئی کا مرکز بنے گا۔اتوار کو گورنر ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق تقریب سے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ اور سندھ کے وزیر آئی ٹی علی راشد نے بھی خطاب کیا اور جاری منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔گورنر سندھ نے کہا کہ وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ دن رات نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کے اقدامات کی مکمل حمایت اور تائید کا اظہار کیا۔
انہوں نے نوجوانوں سے خطاب میں کہا کہ ہماری بیٹیاں اور بیٹے باصلاحیت ہیں اور مستقبل میں پاکستان کا نام روشن کریں گے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ معرکہ ترقی، معرکہ معیشت، معرکہ آئی ٹی اور اے آئی میں بھی کامیابی حاصل کی جائے گی ۔انہوں نے وفاقی وزیر شزہ فاطمہ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے کراچی آ کر سندھ کو چار ارب روپے کی سرمایہ کاری کے ذریعے انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کا تحفہ دیا، جس کے نتیجے میں بدین اور سانگھڑ میں جدید آئی ٹی منصوبے فعال ہو رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جو طلبہ آج ٹیسٹ میں کامیاب نہ ہو سکیں، ان کے لیے گورنر ہائوس کا آئی ٹی سینٹر کھلا ہے، جہاں روزانہ چار سیشن ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر پانچ سیشن بھی کیے جائیں گے۔ اس موقع پرگورنر سندھ نے چیئرمین سیلانی ٹرسٹ مولانا بشیر فاروق اور ان کی ٹیم کابھی شکریہ ادا کیا ۔گورنر سندھ نے بتایا کہ آئی ٹی کورس کے ٹیسٹ کے لیے پانچ لاکھ طلبہ کو گورنر ہائوس میں بلایا گیا اور آج 50 ہزار بچے ایک سیشن میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہر کورس کی قیمت 9 لاکھ روپے ہے جو مکمل طور پر مفت فراہم کی جا رہی ہے اور یہ پروگرام پچھلے دو سال سے جاری ہے۔
مزید براں 98 ہزار بچے اے آئی، میٹا اور ویب ڈیزائننگ کے کورسز مکمل کر کے فری لانسنگ کے ذریعے باعزت روزگار حاصل کر رہے ہیں، جس میں بعض طلبہ ماہانہ 1,200سے 2,000ڈالر تک کما رہے ہیں۔گورنر سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ پورے سندھ میں آئی ٹی کا مضبوط جال بچھانے کا عزم جاری ہے اور گورنر ہائوس ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہے گا تاکہ سندھ اور پاکستان ڈیجیٹل ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔



