کاروباری

لاہور چیمبر کا وزیراعظم اور معاشی ٹیم کو کاروبار دوست اور ترقی کیلئے سازگار وفاقی بجٹ پیش کرنے پر خراجِ تحسین

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی معاشی ٹیم کو متوازن، کاروبار دوست اور ترقی کے لیے سازگار وفاقی بجٹ 2026-27 پیش کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔وزیراعظم کو لکھے گئے ایک خط میں لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور پوری معاشی ٹیم کو مبارکباد پیش کی کہ انہوں نے مالیاتی چیلنجز کے باوجود ایسا بجٹ پیش کیا جو اقتصادی ترقی، نجی شعبے کے فروغ اور عوامی فلاح و بہبود کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

فہیم الرحمن سہگل نے وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس ڈاکٹر نجیب میمن اور معاشی ٹیم کے دیگر ارکان کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے بجٹ سازی کے پورے عمل کے دوران کاروباری برادری کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا۔لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ بجٹ میں کاروبار کے فروغ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، برآمدات میں اضافے اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد اہم اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات کاروباری ماحول کو بہتر بنانے، معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور سرمایہ کاروں و کاروباری افراد کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔فہیم الرحمن سہگل نے بالخصوص برآمدی شعبے کے لیے 4.5 فیصد شرحِ منافع پر رعایتی فنانسنگ سہولت کے تسلسل، سپر ٹیکس کے خاتمے، آئی ٹی برآمدات کے لیے فائنل ٹیکس رجیم کے برقرار رہنے، بیرونِ ملک اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کے خاتمے، انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعات کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس میں بہتری، سیکشن کے خاتمے اور سیکشن 4C کے تحت سپر ٹیکس کی شرح میں کمی کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کے اجرا، بینک کارڈز کے ذریعے بین الاقوامی لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی، زرعی مشینری کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کے خاتمے اور تنخواہ دار طبقے کے لیے بامعنی ٹیکس ریلیف کو بھی سراہا۔

لاہور چیمبر کے صدر نے ٹیرف ریشنلائزیشن، معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس انتظامیہ میں اصلاحات، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں شفافیت کے فروغ، ٹیکس دہندگان اور ٹیکس حکام کے درمیان غیر ضروری رابطوں میں کمی اور ٹیکس دہندگان کو ہراسانی سے بچانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری کے دوران اختیار کیا گیا مشاورتی طریقہ کار اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کی فعال شمولیت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت کاروباری برادری کے ساتھ بامعنی مکالمے کے ذریعے معاشی پالیسیاں تشکیل دینے کے لیے سنجیدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور کاروباری رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات نے نجی شعبے کو اپنی تجاویز اور تحفظات براہِ راست حکومت کے سامنے رکھنے کا ایک موثر موقع فراہم کیا، جس سے پالیسی سازوں اور کاروباری برادری کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوا۔فہیم الرحمن سہگل نے اس امید کا اظہار کیا کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں کیے گئے اقدامات آئندہ برسوں میں معاشی ترقی، برآمدات میں اضافے، صنعتی توسیع، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مجموعی معاشی استحکام کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔فہیم الرحمن سہگل نے مئی 2025 کے پاک بھارت تنازع کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیاب تکمیل کو سراہا۔

انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں نے قومی اعتماد کو مضبوط کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو مزید مستحکم کیا۔تاہم لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت ان شعبوں پر بھی خصوصی توجہ جاری رکھے گی جنہیں مزید پالیسی معاونت کی ضرورت ہے، بالخصوص زرعی شعبہ جو صنعت کو خام مال فراہم کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے اور قومی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بجٹ میں متعدد مثبت اقدامات شامل کیے گئے ہیں، تاہم زرعی شعبہ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) اور آئی ٹی انڈسٹری مزید مراعات اور ہدفی اقدامات سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ان شعبوں کی مکمل صلاحیت سے استفادہ برآمدات، سرمایہ کاری، جدت طرازی اور روزگار کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات میں ان شعبوں کو مزید توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button