ایس ای سی پی ،ایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبل لمیٹڈ مجوزہ آئی پی او ، بینکوں سے ریکارڈ طلب

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی)نےایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبل لمیٹڈ کے مجوزہ آئی پی او کی تحقیقات میں پیشرفت کے لیے 7 بینکوں سے برآمدی ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ایس ای سی پی کے اعلامیہ کے مطابق بینکوں سے کمپنی کے لیے برآمد کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا گیا، جو پہلے شاہین انٹرپرائزز کے نام سے جانی جاتی تھی ۔
ایس ای سی پی نے 30 بینکوں سے غیر ملکی ترسیلات زر، برآمدی آمدنی اور کمپنی کے سپانسرز اور ڈائریکٹرز کے کھاتوں میں موصول ہونے والی دیگر زرمبادلہ کے لین دین کے بارے میں بھی معلومات طلب کیں۔ اس حوالہ سے کچھ بینکوں نے جواب دیا ہے اور ان کی گزارشات زیر غور ہیں۔ایس ای سی پی نے 21 اکتوبر کو ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کے سیکشن 29 کے تحت تحقیقات کا آغاز کیا جسے سکیورٹیز ایکٹ کے سیکشن 139 کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ ایس ای سی پی نے آئی پی او کے جوائنٹ لیڈ منیجرز، ٹاپ لائن سکیورٹیز اور گروتھ سکیورٹیز سے معلومات حاصل کی ہیں جبکہ کنسلٹنٹ پارکر رسل کا جواب بھی زیر غور ہے، تحقیقاتی ٹیم آئی پی او کی درخواست اور شیئر ہولڈر کی معلومات کی جانچ کر رہی ہے۔سنٹرل ڈپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) نے سرمایہ کاروں کی فہرست فراہم کی اور بعد میں پراسپیکٹس میں نام رکھنے والے افراد کے لیے شیئر ہولڈر کی فہرستوں اور ٹرانسفر ہسٹری کے لیے درخواست موصول ہوئی جس کا 2 نومبر کو جزوی جواب موصول ہوا تھا اور زیر غور ہے۔کمپنی کے آڈیٹر الیاس سعید اینڈ کمپنی نے درخواست کی معلومات اور ریکارڈ فراہم کرنے کے لیے توسیع کی درخواست کی تھی اور ایس ای سی پی نے توسیع دے دی۔تحقیقات کمپنی کی مالی معلومات اور آڈٹ کے بارے میں خدشات کے بعد کی جا رہی ہیں ۔ ایس ای فروٹ نے 40 روپے میں 30 ملین شیئرز کی پیشکش کر کے 1.92 ارب روپے تک اکٹھا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایس ای سی پی نے اکتوبر میں آئی پی او کو روک دیا تھا اور کمپنی نے بعد میں پیشکش واپس لے لی۔



