ٹاپ نیوز

سوات پولیس ٹریننگ سینٹر میں ملاکنڈ ڈویژن کے گرینڈ جرگے کا انعقاد، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت

سوات پولیس ٹریننگ سینٹر میں ہفتے کے روز ملاکنڈ ڈویژن کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر آئی جی فرنٹیر کور، انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید، آر پی او سوات زاہد نواز خان مروّت، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز (ڈی پی اوز) موجود تھے۔ جرگے میں سیاست دانوں، ماہرینِ تعلیم، وکلا اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عمائدین نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے اپنے خطاب میں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے مسائل کے حل، امن و استحکام اور پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جرگے کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے امن و امان کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہاں کے عوام، افواج پاکستان، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے مل کر لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی ہے۔ عوام کی حمایت اور تعاون سے ہی امن و استحکام کے قیام میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے جرگے کے انعقاد کو سراہتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا اور آر پی او زاہد خان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے ان کے مسائل اور تجاویز سننا ایک قابل تحسین اقدام ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اس کامیاب ماڈل کو خیبر پختونخوا کے دیگر ڈویژنوں، اضلاع اور تحصیلوں تک بھی وسعت دی جائے تاکہ عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ مضبوط ہو اور ان کے مسائل کا قابل عمل حل تلاش کیا جا سکے۔ امیر مقام نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن بالخصوص سوات کے عوام نے دہشت گردی کے بدترین ادوار، نقل مکانی، آپریشنز اور دیگر مشکل حالات کا سامنا کیا ہے۔ یہاں کے عوام نے اپنے پیاروں کی قربانیاں دیں، اپنے گھر بار چھوڑے اور ملک میں امن کی بحالی کے لیے افواج پاکستان اور سکیورٹی اداروں کا بھرپور ساتھ دیا۔ 2005 کے زلزلے، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے دوران بھی افواج پاکستان نے عوام کی مدد اور بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا امن، سلامتی اور استحکام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

افواج پاکستان نے ہر مشکل وقت میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں سے ملک کا دفاع کیا اور حالیہ چیلنجز میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ہمیں قومی یکجہتی، اتحاد اور ملکی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام محب وطن ہیں اور ہمیشہ ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ عوام اور سکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد اور تعاون کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ علاقے کے معاشی اور ترقیاتی مسائل پر بات کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو درپیش ٹیکسوں اور دیگر معاشی مشکلات سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی، متعلقہ کمیٹیوں، وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کے سامنے ان مسائل کو اٹھاتے رہے ہیں اور آئندہ بھی عوام کے حقوق کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں نے سوات موٹروے سمیت دیگر اہم ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سوات موٹروے کے لیے اراضی کے حصول اور معاوضوں کے معاملات میں پیش رفت ہو چکی ہے، تاہم متعلقہ معاہدے پر عملی کام شروع ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح کورین ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے تعاون سے 18 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے پر بھی جلد پیش رفت کی امید ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ امیر مقام نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں صحت، تعلیم، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کو عملی تبدیلی نظر آئے۔پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

پولیس کی استعداد کار بڑھانے، جدید سہولیات فراہم کرنے اور اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔ پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھنا اور میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیاں کرنا امن و امان کے قیام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں اور عوامی خدمت کے نتائج بھی سامنے آنے چاہئیں۔ ہمیں ایک طرف بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کرنی ہے تو دوسری طرف عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنانی ہے۔ وفاقی وزیر نے جرگے میں شریک تمام عمائدین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے مسائل کے حل، امن و استحکام کے فروغ اور علاقے کی ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔

اس جرگے کا بنیادی مقصد شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور امن سے متعلق درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ جرگے میں وی سی سوات پروفیسر خوشحالی امین، وی سی ویٹرنری یونیورسٹی سوات پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ، ایم پی اے رشاد خان شانگلہ، ایم پی اے افشان حسین اپر سوات، برگیڈیئر (ر) سلیم خان، سابق سینیٹر راحت حسین، نجم الدین خان اپر دیر، واجد علی خان سوات، محمد علی شاہ (سابق صوبائی وزیر)، صاحبزادہ طارق اللہ، بہادر الدین (ریٹائرڈ ایس پی شانگلہ)، امجد خان (ریٹائرڈ ایس ایس پی)، بخت جہان (سابق ڈپٹی اسپیکر)، میاں سید لائق بادشاہ، ارشد خان (سابق سیکرٹری)، فیاض ظفر، خورشید علی خان (ڈسٹرکٹ دیر)، شہراز خان، مولانا جاوید ملاکنڈ اور ملک مظفر سید سابق صوبائی وزیر نے شرکت کی۔

جرگے کے عمائدین نے خطے میں امن و امان کی اہمیت پر زور دیا۔ گرینڈ جرگے نے متفقہ طور پر پولیس فورس کو جدید ترین سیکیورٹی آلات و سامان سے لیس کرنے کی تجویز پیش کی۔ عمائدین نے کہا کہ پاک فوج کے جوان اور پولیس اہلکار ہمارے اپنے بچے ہیں اور ہماری تمام تر حمایت ان کے ساتھ ہے۔ اس کے علاوہ جرگے کے عمائدین نے ملاکنڈ ڈویژن پر کسی بھی قسم کے ٹیکس کے نفاذ کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button