وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی سے ممتاز شعراء، ادیبوں، دانشوروں اور اہل قلم کے نمائندہ وفد کی ملاقات

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کے کمیٹی روم میں راولپنڈی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ممتاز شعراء، ادیبوں، دانشوروں اور اہل قلم کے نمائندہ وفد سے ایک خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور اہل قلم کی فلاح و بہبود کے حوالے سے تجاویز اور آراء حاصل کرنا تھا۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے شرکا سے اکادمی ادبیات پاکستان کی علمی و ادبی خدمات ،مستقبل کی ترجیحات اور قومی سطح پر اردو سمیت پاکستان کی تمام علاقائی اور قومی زبانوں کے ادب کے فروغ کے لیے قابل عمل تجاویز طلب کیں۔ملاقات میں ممتاز ادیبوں اور شعراء ڈاکٹر احسان اکبر، علی اکبر عباس، عائشہ مسعود، ظہیر گیلانی، خرم خلیق، کاشف عرفان، رفیع الدین صدیقی، پروفیسر نرجس افتخار، مبشر سلیم، نصرت یاب خان نصرت، افشاں عباسی، انجینئر طارق محمود، پروفیسر فاطمہ مبین، محمد اکبر نیازی، پروفیسر مظہر اقبال، وفا چشتی، محمودہ عازیہ، شہریار، ڈاکٹر فرحت عباس، ڈاکٹر محمد سلیم مظہر اور دیگر اہل قلم کے علاوہ اکادمی کے افسران میر نواز سولنگی، اختر رضا سلیمی ، علی عرفان اور دیگر عملے نے شرکت کی۔
شرکا نے اکادمی ادبیات پاکستان کی بہترین کارکردگی اور ادیبوں اور شاعروں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ ان تجاویز میں ادبی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے، نوجوان ادیبوں اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی، کتابوں کی اشاعت، ادبی تقریبات و سیمینارز کے انعقاد، علاقائی زبانوں کے ادب کی سرپرستی، ادیبوں کی فلاح و بہبود، رائٹرز ہائوس کی بہتری اور چائے خانہ کے قیام جیسے امور شامل تھے۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے تمام معزز شعراء اور ادیبوں کی تجاویز اور آراء کو فرداً فرداً نہایت توجہ اور دلچسپی سے سنا اور ان کے خیالات کو قابل قدر قرار دیا۔ انھوں نے اس امر پر زور دیا کہ اکادمی ادبیات پاکستان محض ایک سرکاری ادارہ نہیں بلکہ ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور اہل قلم کا مشترکہ گھر ہے جس کی رونقیں انھی اہل قلم کی تخلیقی کاوشوں، علمی خدمات اور ادبی وابستگی سے قائم ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ادیب اور شاعر کسی بھی معاشرے کا فکری، تہذیبی اور ثقافتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیقات نہ صرف قوموں کی شناخت اور تاریخ کو محفوظ کرتی ہیں بلکہ معاشرے میں شعور، برداشت، مکالمے اور مثبت فکری رجحانات کو بھی فروغ دیتی ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ ادیبوں اور شاعروں کو عزت، وقار اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔انھوں نے مزید کہا کہ ادارے کی بہتری کے لیے اہل قلم کی تجاویز اور مشاورت کو خصوصی اہمیت دی جائے گی تاکہ اکادمی ملک کے ادبی اور ثقافتی منظرنامے میں موثر کردار ادا کر سکے۔وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادیبوں اور شاعروں کی جانب سے پیش کی جانے والی قابل عمل تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا اور ادارے کی بہتری کے لیے مناسب اقدامات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اکادمی کے دروازے تمام ادیبوں، شاعروں اور اہل قلم کے لیے کھلے ہیں اور ادارے کی پالیسی سازی میں ادبی برادری کی مشاورت اور شمولیت کو فروغ دیا جائے گا۔ملاقات کے اختتام پر شرکا نے وفاقی وزیر کی جانب سے ادبی برادری کو اعتماد میں لینے، ان کے خیالات سننے اور براہ راست مشاورت کے اس اقدام کو سراہا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس ملاقات میں پیش کی جانے والی تجاویز علمی و ادبی خدمات کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گی۔



