پاکستان کا ایشیا و مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایف اے او کی 38ویں علاقائی کانفرنس میں زرعی غذائی نظام کی تبدیلی کے عزم کا اعادہ

پاکستان نے خوراک و زراعت کی تنظیم (ایف اے او) کے 38ویں وزارتی اجلاس کے دوران مضبوط، جامع اور پائیدار زرعی غذائی نظام کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے، جہاں وفاقی وزیر برائے قومی ، غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے قومی اور عالمی سطح پر مستقبل کا ایک واضح وژن پیش کیا۔ جاری پریس ریلیز کے مطابق ایشیا و مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایف اے او کی 38ویں علاقائی کانفرنس کا افتتاح پرنس حاجی المہتدی باللہ بلقیہ نے کیا۔ کانفرنس کے موقع پر وفاقی وزیر نے شہزادےسے ملاقات کی اور صدرِ پاکستان، وزیر اعظم اور ِ پاکستان کے عوام کی جانب سے برونائی دارالسلام کے سلطان حاجی حسنال بلقیہ معزالدین با اللہ اور برونائی دارالسلام کے عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے دیگر ملاقاتوں کے علاوہ اپنے برونائی ہم منصب اور وزیر برائے بنیادی وسائل و سیاحت سے بھی دوطرفہ ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں بشمول ماہی پروری اور آبی زراعت، زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی اور زرعی تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عالمی غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تنظیم کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر استوار حل کی جانب گامزن کیا ہے۔ انہوں نے ایف اے او کے ’’فور بیٹرز‘‘ فریم ورک۔ بہتر پیداوار، بہتر غذائیت، بہتر ماحول اور بہتر زندگی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اسے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں زرعی غذائی نظام کی تبدیلی کے لیے ایک رہنما اصول قرار دیا۔ عالمی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، معاشی اتار چڑھاؤ، توانائی کے بحران اور علاقائی عدم استحکام کے باعث زرعی غذائی نظام شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ تمام عوامل پیداواری لاگت، منڈی کے استحکام اور خوراک کی دستیابی پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں، جس کے پیش نظر فوری اور تیز رفتار اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔وفاقی وزیر نے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ملک کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایف اے او کے تعاون سے پانی کے بہتر انتظام، فصلوں کی تنوع کاری اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی طریقوں کو فروغ دے کر اپنے زرعی غذائی نظام کو جدید بنا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے، جس میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ڈیٹا پر مبنی رہنمائی کے نظام اور پریسیژن ایگریکلچر شامل ہیں تاکہ پیداوار اور وسائل کے مؤثر استعمال کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی میں چھوٹے کاشتکاروں، خواتین اور نوجوانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ توسیعی خدمات اور ویلیو چینز کو مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ معاشی ترقی میں وسیع تر شمولیت ممکن ہو سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بڑے پیمانے پر تبدیلی کے لیے سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور اسے ترجیحی شعبوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایف اے او کے ساتھ مل کر منتشر اقدامات سے ہٹ کر مربوط اور ڈیٹا پر مبنی سرمایہ کاری حکمت عملی کی جانب بڑھ رہا ہے تاکہ سرکاری و نجی دونوں شعبوں سے سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ ایف اے او کے ہینڈ اِن ہینڈ اقدام کے تحت پاکستان اعلیٰ صلاحیت رکھنے والی زرعی ویلیو چینز کی نشاندہی کر رہا ہے اور ایسے منصوبے تیار کر رہا ہے جو سرمایہ کاری کے قابل ہوں، تاکہ خطرات کو کم کیا جا سکے اور ترقی کے قابلِ پیمائش نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ اس ضمن میں انہوں نے حکومتِ پاکستان اور ایف اے او پاکستان کے درمیان زیتون اور ڈیری کے شعبوں میں قومی ہینڈ اِن ہینڈ انویسٹمنٹ سمٹ کے انعقاد کو سراہا
جو ایف اے او انویسٹمنٹ فورم 2026 کی تیاری کا حصہ ہے۔ون ہیلتھ کے تصور کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے باہمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف اے او اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے مربوط نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے، تشخیصی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔پاکستان سرحدی حیوانی امراض کے عالمی شراکت پروگرام کے تحت بھی اہم اقدامات کر رہا ہے اور روک تھام پر مبنی حکمت عملی کو فروغ دے رہا ہے۔ فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز کے قومی پروگرام سمیت جانوروں کی شناخت اور ٹریس ایبلٹی کے نظام کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ لائیو اسٹاک کے شعبے کو محفوظ بنایا جا سکے اور محفوظ تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی غذائی نظام کی تبدیلی تنہا ممکن نہیں اور اس کے لیے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے ایشیا و مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان پائیدار ماہی پروری، بلیو ٹرانسفارمیشن، موسمیاتی موافق زراعت اور بایو اکانومی جیسے شعبوں میں تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ زرعی غذائی نظام کی تبدیلی اب کوئی دور کا ہدف نہیں بلکہ ایک فوری ضرورت بن چکی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایف اے او اور رکن ممالک کے ساتھ مل کر شراکت داری، سائنسی جدت اور جنوب۔جنوبی تعاون کے ذریعے اس مقصد کے حصول کے لیے کام جاری رکھے گا۔انہوں نے کہاکہ اگر ہم فوری اور مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ اقدامات کریں تو ہم ایسے زرعی غذائی نظام تشکیل دے سکتے ہیں جو غذائی تحفظ کو یقینی بنائیں، غذائیت کو بہتر کریں، ماحول کا تحفظ کریں اور سب کے لیے بہتر روزگار کے مواقع پیدا کریں۔



