قومی

سموگ سے غریب طبقہ زیادہ متاثر ، امیر افراد حفاظتی اقدامات کر سکتے ہیں، ڈاکٹر مصدق ملک

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی اور سموگ سے غریب طبقہ، سکول جانے والےبچے، سڑکوں پر کام کرنے والے افراد اور کسان زیادہ متاثر ہوتے ہیں ، صاحبِ ثروت افراد ایئر پیوریفائرز اور دیگر حفاظتی اقدامات کے ذریعے خود کو آلودگی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔بدھ کوپاکستان نیشنل کلین ایئر کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی انسانی سرگرمیوں اورپالیسی فیصلوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بحران ہےجس کے صحت اور معیشت پر اثرات غیر متناسب طور پر ان افراد پر پڑتے ہیں جن کے پاس خود کو محفوظ رکھنے کے وسائل محدود ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ فضائی آلودگی کے باعث ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی)کے 6.5 فیصد کے مساوی معاشی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے جس میں بیماریوں، ہسپتالوں میں علاج اور متاثرہ خاندانوں پر پڑنے والے مالی دباؤ کے اخراجات شامل ہیں۔انہوں نے صحت عامہ پر فضائی آلودگی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پھیپھڑوں کی دائمی بیماری (سی او پی ڈی)میں مبتلا مریضوں کو آکسیجن اور ادویات کی ضرورت پڑتی ہےجو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے یونیسیف کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی بچوں کے پھیپھڑوں کی صحت اور نشوونما کو متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلودہ فضا میں سانس لینے والے بچے کس حد تک اس نقصان کوسمجھ سکتے ہیں جو ان کی صحت کو پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آلودگی سے نمٹنے کی صلاحیت افراد کے معاشی حالات اوررہائشی ماحول کے مطابق مختلف ہوتی ہے، صاحبِ ثروت افراد ایئر پیوریفائرز نصب کر سکتے ہیں جبکہ سکول جانے والے بچوں اور روزگار کے لیے گھروں سے باہر کام کرنے والے افراد کو سموگ کا براہ راست سامنا کرنا پڑتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سڑکوں پر اشیا فروخت کرنے والے افراد، کسان اور دیگر بیرونی مقامات پر کام کرنے والے محنت کش بھی فضائی آلودگی کےاثرات بھگتتے ہیں، فصلوں کی باقیات جلانے والے کسان بھی اس عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کومحض قدرتی آفت کے بجائے ایک پالیسی چیلنج کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ صنعتی سرگرمیوں اور انسانی اقدامات نے اس بحران کو جنم دینے میں کردار ادا کیا اور اس کا حل مؤثر پالیسی اقدامات میں مضمر ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نےپہاڑی علاقوں میں شاہراہ قراقرم کی تعمیر اور ڈینگی پر قابو پانے کی کوششوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عزم اور مؤثر اقدامات کے ذریعے مشکل چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے۔ انہوں نے چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اور شنگھائی دنیا کے آلودہ ترین شہروں سے نکل کر شمسی ٹیکنالوجی کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہو چکے ہیں،پاکستان بھی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد اورترقیاتی شراکت داروں کےتعاون سے صاف ہوا کے حصول میں پیش رفت کر سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے صاف ہوا کے شعبے میں کام کرنے والے نئے کاروباری اداروں کے لیے ایک کروڑ ڈالر کے فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شراکت داروں سے معاونت کی درخواست کے بعد حکومت نے اپنے محدود وسائل سے یہ فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہےجس کے بورڈ کی منظوری جلد متوقع ہے۔انہوں نے مجوزہ فنڈ کو مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض گرانٹ یا قرض نہیں بلکہ صاف ہوا کے حصول کے لیے حکومتی عزم کا حصہ ہے،حکومت بیرونی شراکت داروں کے تعاون کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی اس مقصد کے لیے اقدامات جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی اقدامات میں عالمی بینک،ایشیائی ترقیاتی بینک، یونیسیف اور جرمن ترقیاتی ادارے جی آئی زیڈ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صاف ہوا کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے محض نعروں کے بجائے انجینئرنگ، پالیسی اور مالیاتی سطح پر عملی اقدامات اور پختہ عزم درکار ہے۔انہوں نے فضائی معیار بہتر بنانے اور صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اقدامات پر عملدرآمد کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button