پاکستان، چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس میں 850 ملین ڈالر کی شراکت داریوں کو حتمی شکل دی گئی ہے ،مختار احمد بھرتھ

وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ پاکستان، چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس میں 850 ملین ڈالر کی شراکت داریوں کو حتمی شکل دی گئی ہے ۔اسلام آباد میں پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کی اختتامی تقریب میں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں صحت کے شعبے میں ہونے والا سب سے بڑا تجارتی اور تزویراتی تعاون ہے، جس نے سی پیک فیز ٹو کے تحت صنعتی تعاون، صحت کی معیشت اور جدید طبی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 16 تجارتی معاہدوں کی مالیت 600 ملین امریکی ڈالر سے زائد ہے، جن میں سیل لائن ڈویلپمنٹ، بایوٹیکنالوجی، مصنوعی API مینوفیکچرنگ، میڈیکل ڈیوائسز کی مقامی تیاری اور کلینیکل ٹرائلز کے منصوبے شامل ہیں، جبکہ 18 مفاہمتی یادداشتیں 250 ملین امریکی ڈالر مالیت کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری محض اعلانات نہیں بلکہ عملی منصوبوں کے آغاز کی علامت ہے، جو پاکستان میں جدید طبی صنعت اور مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے چین سے آئے 150 سے زائد صنعتی ماہرین اور پاکستان میں چین کے سفیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی پاکستان کو خطے میں طبی مصنوعات کی تیاری اور برآمدات کا اہم مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
انہوں نے سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی کہ ریگولیٹری منظوریوں، لائسنسنگ، رجسٹریشن اور دیگر سرکاری مراحل کو اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی نگرانی میں ترجیحی بنیادوں پر تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا تاکہ معاہدوں پر جلد عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔اختتام پر انہوں نے پاکستانی صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ کانفرنس کے بعد فوری طور پر اپنے منصوبوں پر کام شروع کریں تاکہ پاکستان اور چین کے درمیان اس تاریخی صنعتی شراکت داری کو عملی کامیابی میں تبدیل کیا جا سکے۔



