قومی

نورین نیازی نے اپنے بھائی کی سیاست کے پیچھے ایسے بیانات دیئے جو بھارتی میڈیا کی زینت بنے، ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ہمیشہ رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، عطاء اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی نے اپنے بھائی کی سیاست کے پیچھے ایسے بیانات دیئے جو بھارتی میڈیا کی زینت بنے، یہ اپنی سیاست کی خاطر پاکستان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں تاہم ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ہمیشہ رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے، مسلم لیگ (ن) کا ہر ورکر ملکی ترقی پر یقین رکھتا ہے، دنیا بھر میں کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہجرت کرنے والے کشمیریوں کی حب الوطنی کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنے دیں گے، کشمیر کاز کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔

اتوار کو یہاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی ہے، پارٹی کا ہر ورکر ملکی ترقی پر یقین رکھتا ہے، کارکن ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہے، ان کی جانب سے دی گئی عزت کا مشکور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 19 جولائی کی تاریخ یوم الحاق پاکستان کے طور پر جانی جاتی ہے، آج اسی مناسبت سے کشمیر کے مہاجرین کی نشستوں پر انتخابات کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ 19 جولائی 1947ء کو سری نگر میں مقبوضہ اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی بھی علامت ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ 19 جولائی کا دن اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام نے 1947ء میں اپنی رائے دی تھی کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان تعلق ایک مضبوط اور اٹوٹ رشتہ ہے۔

کشمیری پوری دنیا بالخصوص یورپ، امریکہ، مشرق وسطیٰ، برطانیہ اور پاکستان میں آباد ہیں، وہ کشمیر میں رہنے والے کشمیریوں سے کم نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہجرت کر کے آنے والے کشمیریوں کے آباؤ اجداد کی قربانیوں کی داستانیں تاریخ کا اہم حصہ ہیں، ہجرت سے کسی قوم کے اپنے وطن پر حق میں کوئی کمی نہیں آتی۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں دو عظیم ہجرتیں ایسی ہوئی ہیں جن کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاستوں کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی اور برکت سے نوازا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی ہجرت ریاست طیبہ کے قیام کے لئے رسول کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت تھی جبکہ دوسری قیام پاکستان کے موقع پر 27 ویں رمضان کی شب ہجرت تھی جب برصغیر کے نوجوان، بزرگ، بچے، مائیں، بہنیں اپنا سب کچھ قربان کر کے ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر کے آئے۔ ہجرت ایک جدوجہد کی نشانی ہوتی ہے، ہجرت کرنے والوں کی قربانیاں اور کاوشیں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہجرت کرنے والے کشمیریوں کی نشستیں ختم کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہجرت کر کے آنے والے کشمیری بھی اتنے ہی کشمیری ہیں جتنے مقبوضہ یا آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری، ان کے آباؤ اجداد نے کشمیر کاز کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں جنہیں پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کاز کے خلاف مذموم سازش کی گئی جس کے پس پردہ اصل ایجنڈا کچھ اور تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران متعلقہ فریق کی تمام جائز مطالبات پر آمادگی ظاہر کی گئی، ان سے بیٹھ کر بات چیت کی گئی اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کے مطالبات پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے باوجود جلاؤ گھیراؤ، تشدد کی سیاست اور مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف نشستیں ختم کرنے کی کوشش نہیں تھی بلکہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان تاریخی اور مضبوط رشتے کو کمزور کرنے کی ایک منظم سازش تھی۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ وہ ہجرت کرنے والے کشمیریوں کے حقوق سلب کرے یا ان کی نمائندگی کو محدود کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہر گزنہیں ہو سکتا کہ برطانیہ، امریکہ یا دنیا کے کسی اور حصے میں آباد کشمیری یا لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں مقیم کشمیری کی کشمیریت پر سوال اٹھایا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چند ہزار افراد کو جمع کر کے لشکر کشی کرنا، کیلوں اور ڈنڈوں سے لیس ہو کر آنا اور یہ سمجھنا کہ طاقت کے زور پر وہ اپنی بات منوالے گا تو ریاستوں کے آگے یہ چیز کوئی معنی نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں عوامی حمایت حاصل ہوتی تو وہ انتخابات میں حصہ لیتے، عوام کے پاس اپنا ایجنڈا اور منشور لے کر جاتے اور اسمبلی میں ان کے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھاتے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو معلوم تھا کہ کشمیری عوام اس سازش کو مسترد کر دیں گے، اسی لیے انہوں نے انتخابی عمل میں حصہ لینے کی ہمت نہیں کی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وہ آج مہاجرین کی نشستوں کے انتخابات کے حوالے سے بات کرنے آئے ہیں۔ این اے 34 میں دو نشستیں ہیں، جموں کی نشست پر ناصر ڈار اور کرن ڈار کے خاندان کا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ دیرینہ تعلق ہے، ان کے والدین کے دور سے یہ وابستگی قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بہن بھائیوں نے جماعت کے لیے ہمیشہ خدمات انجام دی ہیں اور آج جب وہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں تو کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھرپور محنت کر کے انہیں کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ این اے 41 ویلی کی نشست پر عامر شاہ امیدوار ہیں، کارکن ان کی کامیابی کے لیے بھی بھرپور کوشش کریں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے اور متنازعہ بیان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نورین نیازی کے ملک مخالف بیان پر عوامی ردعمل سامنے آ رہا ہے، لوگوں کے اندر غم و غصہ ہے۔

نورین نیازی نے اپنے بھائی کی سیاست کے پیچھے معرکہ حق جیسے قومی معاملات پر سوالات اٹھائے ہیں، ان کے بیانات بھارتی میڈیا کی زینت بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، سیاست، عہدے اور تمام سیاسی سرگرمیاں پاکستان کی بدولت قائم ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ اس نوعیت کے بیانات دے کر ان کی سیاست چمکے گی جبکہ اصل میں ان کی سیاست دفن ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت انتشار کا شکار ہے، پی ٹی آئی کے لوگ آپس میں دست و گریباں ہیں، خیبر پختونخوا حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے جہاں کوئی وزیر ہیلی کاپٹر کے استعمال میں مصروف ہے تو کہیں شاہانہ اخراجات کئے جا رہے ہیں جبکہ عوام کے مسائل اور مشکلات پر توجہ نہیں دی جا رہی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ خدمت کی سیاست کی ہے، شہباز شریف عوام کی خدمت کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ مادرِ ملت روڈ پر ہر طرف تعمیر و ترقی نظر آ رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ترقیاتی عمل کو مزید آگے بڑھایا ہے جس سے نہ صرف مسلم لیگ (ن) کا نام روشن ہوا بلکہ عوامی خدمت کے نئے ریکارڈ بھی قائم ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 12 سال سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے لیکن وہاں کبھی عوامی مسائل اور ترقی کے حوالے سے بات نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معرکۂ حق میں پاکستان کی فتح ہضم نہیں ہوئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت دی اور پوری دنیا نے دیکھا کہ بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو عالمی سطح پر پذیرائی اور عزت ملی۔ وہ جہاں بھی گئے، لوگوں نے پاکستان کو فاتح ملک قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آج بھی امن اور ثالثی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے جو ملک کے وقار اور عزت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیاست زوال کا شکار ہے اور یہ عناصر اپنی سیاست کے لیے پاکستان کو داؤ پر لگانے اور دنیا میں بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں پاکستانیوں کو عزت و احترام حاصل ہو رہا ہے، ایسی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں جس کے ذریعے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جس نے بھی پاکستان کے ساتھ غدداری یا ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کی، ہمیشہ رسوائی اور ناکامی اس کا مقدر بنی ہے۔

یہ معاملہ اس طرح نہیں تھمے گا، انہیں جواب دینا ہوگا، قوم سے معافی مانگنا ہوگی اور شہداء کے خاندانوں سے بھی معذرت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہلخانہ سے جا کر پوچھیں جب ان کی مائیں وطن کی حفاظت کے لئے اپنے بچوں کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتی ہیں، ان کی قربانیوں کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنی سیاست کے لئے ریاست کی بے توقیری کرنے پر اتر آئے ہیں، ایسی سوچ قابل مذمت ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ نورین نیازی کا مقصد بھی یہی تھا کہ ان کے بیانات بھارتی میڈیا میں نمایاں ہوں اور پاکستان کے خلاف استعمال کیے جائیں، یہ ناقابل معافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف کی جانے والی ہر مذموم سازش ناکام ہوگی اور پاکستان ان شاء اللہ ترقی کے سفر پر گامزن رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عزت، وقار اور قدر میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ سفر جاری رہے گا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button