عالمی ادارہ صحت کی ایبولا کے خلاف عالمی یکجہتی اور کھلی سرحدوں کی اپیل
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی حالیہ وبا سے نمٹنے کے لیے مقامی آبادی کے اعتماد، حکومتی قیادت اور بین الاقوامی تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سفری پابندیاں اور سرحدوں کی بندش وبا کے خلاف کوششوں کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔شنہوا کے مطابق شمال مشرقی صوبے اتوری صوبہ کے دارالحکومت بنیامیں کانگو کے حکام کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹیڈروس نے کہا کہ ان کا دورہ اس پیغام کے لیے ہے کہ ایتوری، شمالی اور جنوبی کیو اور پورے کانگو کے عوام تنہا نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقامی برادریاں اپنے مسائل کو بہتر سمجھتی ہیں اور اکثر ان کے حل بھی خود تجویز کر سکتی ہیں۔
ان کے مطابق اعتماد کی تعمیر سننے اور عوام کو فیصلوں میں شامل کرنے سے شروع ہوتی ہے۔ٹیڈروس نے کہا کہ موجودہ وباکے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں۔ تاہم بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی سے مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے، اور ایتوری میں بعض مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او اور اس کے شراکت دار محفوظ اور مؤثر ویکسینز اور علاج کی تیاری کے لیے کلینیکل آزمائشوں پر کام کر رہے ہیں۔وزیر صحت نے کہا کہ لیبارٹری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب تک تقریباً 900 نمونوں کی جانچ کی جا چکی ہے، جن میں سے لگ بھگ 260 مثبت کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ روزانہ 200 سے 300 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی گئی ہے۔انہوں نے ہاتھوں کی صفائی، درست معلومات کی فراہمی، متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگانے، لیبارٹری ٹیسٹنگ، مریضوں کی دیکھ بھال اور محفوظ تدفین جیسے بنیادی صحت عامہ کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔
ٹیڈروس نے ان ممالک سے بھی اپیل کی جنہوں نے کانگو کے ساتھ سرحدیں بند کر دی ہیں یا سفری پابندیاں عائد کی ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں۔ ان کے مطابق ایسی پابندیاں وبا کے خلاف ردعمل کو مشکل بناتی ہیں اور شفافیت و اعتماد کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں، جو انسانی جانیں بچانے کے لیے ضروری ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ غلط معلومات، گمراہ کن پروپیگنڈا اور عوامی عدم اعتماد اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔ ان کے بقول تمام پیغامات سائنس، شواہد اور مستند اعداد و شمار کی بنیاد پر دیے جانے چاہئیں۔اپنے خطاب کے اختتام پر ٹیڈروس نے کہا کہ یکجہتی ہماری بہترین قوتِ مدافعت ہے،” اور یقین ظاہر کیا کہ مشترکہ کوششوں سے اس وبا پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔


