آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی معیشت کے لیے شدید اور تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تین ممکنہ منظرنامے پیش کیے۔ بدترین صورت میں اگر آبنائے ہرمز سال کے آخر تک بند رہی تو عالمی مہنگائی 6 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے جبکہ اقتصادی شرح نمو 2 فیصد تک گر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں خاص طور پر دنیا کی غریب آبادی شدید مشکلات کا شکار ہوگی، جبکہ عالمی کساد بازاری کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا جس کے اثرات معیشت، سیاست اور سماجی استحکام پر پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ بہترین صورت میں بھی اگر آج ہی پابندیاں ختم ہو جائیں تو سپلائی چین کو بحال ہونے میں مہینوں لگیں گے،
جس کے باعث کم معاشی پیداوار اور مہنگائی برقرار رہے گی۔ایک اور منظرنامے میں، اگر رکاوٹ سال کے وسط تک جاری رہی تو عالمی معاشی ترقی 2.5 فیصد تک گر سکتی ہے، افراطِ زر 5.4 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، جبکہ مزید 3 کروڑ 20 لاکھ افراد غربت اور 4 کروڑ 50 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انتونیو گوتریش نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولیں اور جہاز رانی کی آزادی کو بحال کریں، جیسا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 میں کہا گیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ صرف راستہ کھولنا کافی نہیں بلکہ جہاز رانی کو محفوظ، قابلِ پیش گوئی اور قابلِ بیمہ بھی بنانا ہوگا۔ساتھ ہی انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو امریکہ اور ایران کے درمیان موجود نازک جنگ بندی کو نقصان پہنچا سکتا ہو، اور مذاکرات کے ذریعے امن کی راہ ہموار کریں۔



