افغان طالبان رجیم کے خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں غیر انسانی تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں، عطاء اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں غیر انسانی پرتشدد واقعات ناقابل قبول ہیں، معصوم شہریوں پر کئے جانے والے غیر انسانی تشدد کے واقعات انسانیت دشمن سوچ کے عکاس ہیں۔ جمعہ کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ”ایکس“ پر اپنی ایک پوسٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی بہادر سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مکمل شکست کھانے اور ان کا سامنا کرنے کی ہمت نہ رکھنے کے بعد شہری علاقوں کو نشانہ بنانا نہ صرف قابل نفرت ہے بلکہ یہ رجیم کے رہنماؤں کے پست اخلاقی کردار کو بھی آشکار کرتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنی پوسٹ میں ڈپٹی کمشنر باجوڑ کے گزشتہ روز کے پریس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پریس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ صرف ضلع باجوڑ میں افغان طالبان اور ان کے بھارتی حمایت یافتہ پراکسی فتنہ الخوارج کی جانب سے شہری آبادی کو بلا اشتعال مجرمانہ کارروائی میں چھ معصوم بچوں اور خواتین سمیت 9 شہری شہید جبکہ سات خواتین اور ایک کم عمر بچے سمیت 12 افراد زخمی ہوئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج ایک مرتبہ پھر فتنہ الخوارج کی جانب سے کھلے عام اور شرمناک انداز میں کواڈ کاپٹر کے ذریعے نشانہ بنانے کے نتیجے میں کرکٹ کھیلتے ہوئے تین شہری زخمی ہوئے۔ اس کے برعکس افغان طالبان رجیم کے نام نہاد نمائندے پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بے بنیاد اور لغو الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وضاحت اور شواہد سے یہ رپورٹ کیا جا چکا ہے کہ پاکستان صرف دہشت گردوں کے ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے، پاکستان افغان طالبان رجیم کے زیر کنٹرول علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور معاونت کرنے والے ڈھانچے کو جب بھی نشانہ بناتا ہے تو معلومات ہمیشہ فوری اور شفاف انداز میں عوام کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کے شہری نقصان سے بچنے کے لئے بھرپور احتیاط برتی جاتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خارجی دہشت گردوں، ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف پاکستان کی جنگ ہمیشہ سچائی، اصولوں، عزت، عزم اور ایمان پر مبنی رہی ہے جبکہ خارجیوں اور ان کے بھارتی حمایت یافتہ سہولت کاروں کی ناپاک جنگ اور انجام شرم، فریب، لالچ اور برائی پر مبنی ہے۔



