عالمی گیس مارکیٹ میں استحکام کے لیے تنازعات کا خاتمہ اور پابندیوں کا اٹھایا جانا ضروری ہے، روس

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ عالمی گیس مارکیٹ میں استحکام کے لیے تنازعات کے خاتمے اور پابندیوں کے خاتمے پر غور کرنا ضروری ہے۔تاس کے مطابق روسی صدر نے گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم (جی ای سی ایف) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فورم کے رکن ممالک کے درمیان بات چیت کسی پس پردہ جوڑ توڑ یا مارکیٹ میں ہیرا پھیری کی کوششوں کے بغیر آگے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فورم کے رکن ممالک عالمی گیس برآمدات کا تقریباً 40 فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں اور ان کے پاس گیس کے شعبے کے پیچیدہ مسائل حل کرنے کے وسائل موجود ہیں۔ ان کے بقول گیس برآمد کرنے والے ممالک باہمی تعاون کے ذریعے نہ تو کوئی اجارہ دار گروہ (کارٹیل) تشکیل دے رہے ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ قدرتی گیس دنیا کی مجموعی توانائی ضروریات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ پورا کرتی ہے اور عالمی توانائی، صنعت اور زراعت میں اس کا کردار مزید بڑھتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، جو اس وقت عالمی گیس تجارت کا تقریباً نصف حصہ ہے، دنیا بھر میں گیس کی فراہمی میں تعطل کے مسئلے سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق مختصر عرصے میں مارکیٹ سے گیس کی بڑی مقدار نکل جانے کے باوجود طلب برقرار ہے۔روسی صدر نے کہا کہ مستقبل میں گیس کی طلب میں اضافہ جاری رہے گا، جس کے لیے نئے گیس ذخائر کی تلاش، پروسیسنگ کی تنصیبات کو جدید بنانے اور نقل و حمل کے منصوبوں، بشمول ایل این جی کی ترسیل و وصولی کے لیے بحری جہازوں اور بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔انہوں نے پیش گوئی کی کہ 2050 تک عالمی گیس کی سالانہ طلب 5.5 ارب مکعب میٹر تک پہنچ جائے گی جبکہ بین الاقوامی گیس کی ترسیل میں تقریباً ڈیڑھ گنا اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور شعبہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، تاہم قیمتیں تیزی سے گر کر سابقہ سطح پر بھی واپس آ سکتی ہیں۔



