عالمی

حزب اللہ نے ایران سے فنڈنگ ملنے کے بعد اسرائیل کے ساتھ ایک اور جنگ کی تیاریاں شروع کردیں: خبررساں ایجنسی

لبنانی سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق لبنانی مزاحمتی تنظیم ‘حزب اللہ’ نے ایران سے فنڈنگ موصول ہونے کے بعد اسرائیل کے ساتھ ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ شروع ہونے کی صورت میں گزشتہ تین ماہ سے تیاریاں شروع کر رکھی ہیں۔

حزب اللہ کو 2024 کے بعد سے اسرائیل کے ساتھ ہونے والی دو جنگوں میں شدید دھچکا لگا ہے جن میں اس کے ہزاروں جنگجو اور کئی رہنما نشانہ بنے اور اس کا زیادہ تر اسلحہ تباہ ہو گیا ہے۔

قابض اسرائیلی افواج کا اب جنوبی لبنان کے ان دیہاتوں پر قبضہ ہے جو اس گروپ کا گڑھ مانے جاتے ہیں جبکہ لبنانی حکومت پر بھی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے سیاسی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ان تمام باتوں کے باوجود یہ گروپ اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لیے پُرعزم ہے اور لبنانی سکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ حزب اللہ نے جون کے بعد سے جنگی کارروائیوں میں آنے والے وقفے کو دوبارہ مسلح ہونے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس دوران اس کی خاص توجہ دھماکہ خیز مواد کے حصول اور ڈرونز کی تیاری پر رہی ہے۔

ذرائع نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ حزب اللہ کو اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایران سے کروڑوں ڈالر ملے ہیں۔ یہ رقم ان تقریباً 20 کروڑ ڈالرز کے علاوہ ہے جو ایران کی جانب سے گروپ کو بے گھر ہونے والے خاندانوں کی مدد کے لیے ملے تھے۔

حزب اللہ کی کارروائیوں سے واقف تین دیگر سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق حزب اللہ اپنا وہ ‘کمانڈ اینڈ کنٹرول’ اسٹرکچر بھی بحال کر رہی ہے جو جنگ کے دوران ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تھا۔

رائٹرز کے سوالات کے جواب میں حزب اللہ کے میڈیا آفس نے کہا کہ لبنانی سرزمین پر اسرائیل کے قبضے نے اس کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت کو ایک جائز حق بنا دیا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ کشیدگی کے پیشِ نظر حزب اللہ الرٹ پر ہے جس سے لبنان کا محاذ ممکنہ طور پر دوبارہ بھڑک سکتا ہے۔ تاہم ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ گروپ ابھی تک اپنے ذخائر اور افرادی قوت کو مکمل طور پر تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

حزب اللہ اب بھی اپنے اسلحہ ذخائر جمع کر رہی ہے اور اس نے رواں ماہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ لبنانی حکام کی جانب سے ضبط کیا گیا دھماکہ خیز مواد اسی کا تھا اور اسے اسرائیل کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ تھا۔

حزب اللہ کے ایک عہدیدار اور ایک لبنانی سکیورٹی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ مواد خاص طور پر اس کے دھماکہ خیز ڈرونز کے لیے تھا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button