عالمی

مذاکرات پسپائی کی علامت نہیں بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کی صورت میں مزاحمت کا حصہ ہیں: باقر قالیباف

تہران : ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات پسپائی کی علامت نہیں بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کی صورت میں مزاحمت کا حصہ ہیں۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق باقر قالیباف نے اپنے ایک کھلے خط میں یہ مؤقف ایرانی روزنامہ کیہان کی جانب سے مذاکرات پر کی جانے والی تنقید کے جواب میں دیا۔

باقر قالیباف نے لکھا کہ کوئی بھی دانشمندانہ اقدام، بااختیار مذاکرات یا دشمن سے قوم کے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کو غلط طور پر سمجھوتہ اور بے عملی قرار نہیں دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی طاقت کے ذرائع کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھانا ضروری ہے تاکہ جنگ کی کامیابیوں کو مستحکم کیا جا سکے اور دشمنوں کی جانب سے منصوبہ بندی کی گئی سنگین تباہ کاریوں سے ملک کو محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔

ایرانی پارلیمانی اسپیکر نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سے فرار اختیار کرنا اور مذاکراتی ٹیم کی ہر کامیابی کو غداری قرار دینا درست نہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button