انڈیانا پولس میں خالصتان ریفرنڈم، بارش کے باوجود سکھ برادری کی بڑی تعداد میں شرکت

انڈیانا پولس: سکھ فار جسٹس کے زیرِ اہتمام امریکی ریاست انڈیانا کے شہر انڈیانا پولس میں خالصتان کے قیام کے مطالبے کے سلسلے میں ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا۔
اس ریفرنڈم میں منتظمین کے مطابق مختلف شہروں اور ریاستوں سے سکھ برادری کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ریفرنڈم کے دوران بارش کے باوجود ووٹنگ کا سلسلہ جاری رہا جب کہ خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ پولنگ کے لیے موجود رہے۔ منتظمین کے مطابق ووٹنگ شام 6 بجے تک جاری رہنی تھی، جس کے اختتام کے بعد ڈالے گئے ووٹوں کی حتمی تعداد سامنے آنے کی توقع ہے۔
تقریب کے دوران خالصتان کے حق میں نعروں کے ساتھ کشمیر کی آزادی کے حق میں بھی نعرے لگائے گئے۔ اس موقع پر فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب نے خطاب کیا، انہوں نے بتایا کہ وہ تقریب میں اسٹیج سے خطاب کرنے والی واحد غیر سکھ مقرر تھیں اور ان کے خطاب کے دوران کشمیر کی آزادی کے حق میں بھی نعرے لگائے گئے۔
خالصتان ریفرنڈم مہم سے وابستہ وکرم جیت سنگھ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنڈم مہم کا آغاز 2020 میں کیا گیا تھا تاہم کورونا وبا کے باعث سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جس کے بعد 31 اکتوبر 2021 کو لندن میں پہلا ریفرنڈم منعقد کیا گیا جس میں، ان کے بقول، ہزاروں سکھوں نے ووٹ ڈالے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد برطانیہ، آسٹریلیا، سوئٹزرلینڈ، اٹلی اور کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں ووٹنگ کرائی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا میں ٹورنٹو میں تین، وینکوور میں دو جبکہ کیلگری میں بھی ریفرنڈم منعقد کیا گیا۔
اسی طرح امریکا میں سان فرانسسکو، لاس اینجلس اور واشنگٹن ڈی سی کے بعد اب انڈیانا پولس میں ووٹنگ کا انعقاد کیا گیا ہے۔
وکرم جیت سنگھ نے دعویٰ کیا کہ دنیا بھر میں اب تک تقریباً 20 لاکھ سکھ اس مہم کے تحت ووٹ ڈال چکے ہیں، اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
انہوں نے بھارتی حکومت پر سکھوں کے ساتھ تاریخی ناانصافیوں، 1984 میں اکال تخت کو پہنچنے والے نقصان، سکھوں کے خلاف تشدد اور پنجاب کے معاشی وسائل کے استحصال کے الزامات بھی عائد کیے۔
انہوں نے بھارت کی موجودہ وفاقی ساخت کے خاتمے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی نقشے میں بنیادی تبدیلی ضروری ہے۔
وکرم جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ سکھ برادری اپنے مطالبات کے حصول کے لیے پرامن اور جمہوری راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے اور پنجاب میں ایک ایسا باضابطہ اور قانونی طور پر مؤثر ریفرنڈم چاہتی ہے جس کے نتائج فریقین کے لیے قابلِ عمل ہوں۔
منتظمین کے مطابق انڈیانا پولس میں ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ریفرنڈم کے نتائج اور آئندہ مرحلے سے متعلق تفصیلات جاری کی جائیں گی، جبکہ مہم کا اگلا ریفرنڈم 18 اکتوبر کو کینیڈا میں منعقد کیے جانے کا اعلان متوقع ہے۔ فراہم کردہ معلومات میں کینیڈا کے شہر کا نام حتمی طور پر واضح نہیں کیا گیا



