کھیلوں کی دنیا

فیفا بحران: اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف کے اپنے مقابلوں کے انعقاد پر غور

فیفا کے صدر جانی انفانٹینو کی قیادت کے حوالے سے جاری بحران نے نیا رخ اختیار کرلیا۔

ایشین فٹبال کنفیڈریشن، یوئیفا اور کونکاکاف نے فیفا کے ساتھ تنازع برقرار رہنے کی صورت میں اپنے درمیان مقابلوں کے انعقاد کے امکان پر ابتدائی مشاورت شروع کردی ہے۔

باخبر ذرائع نے جیو نیوز کو بتایا کہ اس تجویز کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ موجودہ بحران کے باعث کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر مقابلوں کے مواقع سے محروم نہ ہوں اور انہیں کھیلنے کے لیے مناسب مواقع دستیاب رہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور علیحدہ مقابلوں کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اس معاملہ میں کسی بھی اقدام کو فیفا کے گورننس فریم ورک اور قوانین کے مطابق ہی آگے بڑھایا جائے گا۔

یہ پیش رفت اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف کے صدور اور جنرل سیکرٹریز کی جانب سے فیفا قیادت کے خلاف سخت زبان پر مشتمل مشترکہ کھلا خط جاری کیے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے، تینوں کنفیڈریشنز نے ورلڈ کپ میں حصص فروخت کرنے کی تجویز کو اعتماد کی بنیادی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے معاملے کی مکمل آزاد تیسرے فریق سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تینوں کنفیڈریشنز کے درمیان اپنے ارکان کے لیے ایسے مقابلے منعقد کرنے کے امکان پر ابتدائی بات چیت ہوئی ہے جو موجودہ تنازع شدت اختیار کرنے کی صورت میں بین الاقوامی فٹبال کے لیے متبادل راستہ فراہم کرسکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فوری مقصد فیفا ورلڈ کپ یا دیگر موجودہ بڑے مقابلوں کو تبدیل کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہےکہ کھلاڑیوں اور قومی ٹیموں کو بین الاقوامی میچز کھیلنے کے مواقع مسلسل دستیاب رہیں۔

اس سے قبل فیفا تنازعہ کے آغاز پر یوئیفا نے فیفا ورلڈ کپ سمیت دیگر فیفا ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

تنازع کی بنیادی وجہ فیفا فارورڈ انٹرپرائز ہے، جو فیفا کے زیر اہتمام مقابلوں، بشمول ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق سے متعلق مجوزہ تجارتی ڈھانچہ تھا۔

اس تجویز کو متعدد کنفیڈریشنز کی جانب سے گورننس، مشاورت کے عمل اور ورلڈ کپ سے متعلق تجارتی حقوق میں نجی سرمایہ کاروں کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

فیفا نے بعد ازاں یہ تجویز واپس لے لی تاہم اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف کے مشترکہ خط سے واضح ہےکہ تینوں کنفیڈریشنز کے نزدیک اس معاملے سے متعلق گورننس کے سوالات اب بھی حل طلب ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق فٹبال فیملی فیفا صدر کو باوقار انداز میں عہدہ چھوڑنے کا موقع دے رہی ہے اور انفینٹینو کو پیغام دیا گیا ہےکہ انہیں مارچ میں دوبارہ صدارتی انتخاب نہیں لڑنا چاہیے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ فیفا کے گورننس فریم ورک اور قوانین کے مطابق تمام آپشنز بدستور زیر غور ہیں۔

تازہ پیشرفت کے اثرات اگلے ماہ ہونے والے فیفا آسیان کپ میں پاکستان کی شرکت پر بھی پڑ سکتے ہیں تاہم فوری طور پر ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ پاکستان یا کسی دوسرے اے ایف سی رکن ملک کو فیفا کے مقابلوں سے دستبردار ہونے کے لیے کہا گیا ہے، متبادل مقابلوں کے حوالے سے بات چیت بھی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

اگر متبادل مقابلوں کے انعقاد سے متعلق ابتدائی مشاورت باقاعدہ تجویز کی شکل اختیار کرلیتی ہے تو یہ کئی دہائیوں کے دوران فٹبال کا سب سے بڑا تنازعہ بن سکتا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button