قومی

پاکستان سری لنکا کے ساتھ نہ صرف ثقافتی روابط کو فروغ دے گا بلکہ مشترکہ بدھ مت ورثے کے مقامات کو محفوظ بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان سری لنکا کے ساتھ نہ صرف ثقافتی روابط کو فروغ دے گا بلکہ ٹیکسلا، تخت بھائی اور وادی سوات میں موجود مشترکہ بدھ مت ورثے کے مقامات کو محفوظ بنانے اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، جنوبی ایشیا میں امن اور تعاون کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔جمعہ کو سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق سری لنکا کے پاکستان میں نئے ہائی کمشنر ریئر ایڈمرل (ر) ایچ ایل اے ڈان فریڈ سینویراتنے نے چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی موجود تھے۔چیئرمین سینیٹ نے ہائی کمشنر کو پاکستان میں سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 70 سال سے زائد عرصے پر محیط تاریخی اور دوستانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو نئی جہت ملے گی۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان، سری لنکا کو خطے کا ایک اہم اور قابل اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کے برادرانہ تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور تعاون کی اعلیٰ مثال ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے خطے میں تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کو دوبارہ فعال بنانا ناگزیر ہے تاکہ مشترکہ خوشحالی، امن اور علاقائی رابطوں کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے سارک کو اپنی حقیقی صلاحیتوں کے مطابق کردار ادا کرنا ہوگا۔چیئرمین سینیٹ نے اپنے ماضی کے سرکاری دورہ سری لنکا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطحی قیادت کے تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید تقویت دیتے ہیں اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیے۔دفاعی تعاون پر بات کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان فوجی تعلقات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

انہوں نے تربیتی پروگرامز، اعلیٰ سطحی دوروں اور عسکری آلات کی فراہمی کے حوالے سے جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس میں مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ملاقات میں تعلیمی و ثقافتی تعلقات کو بھی نمایاں حیثیت دی گئی۔ چیئرمین سینیٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان نہ صرف ثقافتی روابط کو فروغ دے گا بلکہ ٹیکسلا، تخت بھائی اور وادی سوات میں موجود مشترکہ بدھ مت ورثے کے مقامات کو محفوظ بنانے اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکومت سری لنکن طلبہ کو وظائف اور تربیتی مواقع فراہم کرتی رہے گی۔

چیئرمین سینیٹ نے سری لنکا کی جانب سے کورونا وباء کے بعد معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ مشکل حالات کے باوجود سری لنکا نے بحالی کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں جو اس کے استحکام اور ترقی کی ضمانت ہیں۔علاقائی امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے اس موقف کو دہرایا کہ جنوبی ایشیا میں امن اور تعاون کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیرینہ تنازعات، بالخصوص مسئلہ جموں و کشمیر کو انصاف اور عالمی وعدوں کے مطابق حل کرنا ہوگا۔ "جنگ امن نہیں لاتی، اصل امن انصاف اور مساوات سے قائم ہوتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔چیئرمین سینیٹ نے بطور وزیراعظم اپنے دور حکومت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ ہمسایہ ممالک سے پرامن مذاکرات اور تعمیری روابط کا خواہاں رہا ہے۔ انہوں نے بین الپارلیمانی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور سری لنکن قیادت کو نومبر 2025ء میں پاکستان میں منعقد ہونے والی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

ہائی کمشنر سینویراتنے نے گرمجوشی سے خیرمقدم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سری لنکا، پاکستان کو ایک اہم علاقائی ساتھی سمجھتا ہے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجود بدھ مت ورثے کی وجہ سے مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کی وسیع گنجائش ہے، جو دونوں ملکوں کے عوام کو مزید قریب لا سکتی ہے۔ملاقات کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے ہائی کمشنر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button