کاروباری

اوگرا کو ایل این جی قیمتوں کے تعین میں حائل مسائل دور کرنے کی ہدایت

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے اوگرا کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتوں کے تعین میں حائل مسائل دور کرنے کی ہدایت کر دی۔

سید نوید قمر کی سربراہی میں پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں آڈٹ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اوگرا نے 2015 میں ایل این جی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کا اعتراف کیا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ آر ایل این جی کی قیمتوں کے تعین میں غیرضروری تاخیر سے 103 ارب روپے کا فرق ہے، تاخیر کے باعث خریدار اور سیلر کے درمیان ادائیگیوں کے مسائل پیدا ہوئے۔

سید نوید قمر نے سوال کیا کہ قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی؟ جس کے جواب میں چیئرمین اوگرا نے کہا کہ 29 مارچ 2015 میں پاکستان میں پہلا آر ایل این جی کارگو آیا، اس وقت فیصلہ ہوا کہ اوگرا ایل این کی قیمت کا تعین کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2020 میں امپورٹڈ ایل این جی کو ڈائیورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، 2024 میں رپورٹس آ گئی تھیں جنہیں گیس کمپنیوں کے ساتھ شیئر کیا گیا، ایل این جی قیمتوں سے متعلق کافی مسائل حل کیے جا چکے ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اوگرا کو ایل این جی قیمتوں کے تعین میں حائل مسائل دور کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button