عالمی

غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت، مزید 46 فلسطینی شہید

غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت کا سلسلہ تاحال جاری ہے، تازہ حملوں کے دوران مزید 46 فلسطینی شہید ہوگئے۔

عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پیر کی صبح سے اب تک اسرائیلی فوج کے حملوں میں کم از کم 46 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 6 امداد کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں۔

اسرائیل فوج کی جانب سے غزہ کے نواحی علاقے زیتون میں ایک گھر پر کئے گئے حملے میں پورا خاندان شہید ہو گیا، شہید ہونے والوں میں ماں باپ اور ان کے 6 بچے شامل ہیں۔

الاقصیٰ اسپتال کے مطابق وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح کے جنوب اور مشرق میں اسرائیلی افواج نے 4 فلسطینیوں کو شہید کیا۔

فلسطینی ریڈ کراس نے بتایا کہ غزہ شہر کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی حملے میں مزید 3 شہری شہید اور دیگر زخمی ہوئے۔

دوسری جانب امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اسرائیل کو امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

برنی سینڈرز نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی حکومت پر جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام کے تحت اسے فوجی امداد روک دے۔

ورمونٹ کے سینیٹر نے یہ تبصرہ CNN کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا جس کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اسرائیل کے یہودی ریاست کے تصور پر یقین رکھتے ہیں۔

سینڈرز نے جواب دیا کہ وہ ایسا کرتے ہیں لیکن واضح ہے کہ نیتن یاہو کے اقدامات نے عالمی خیرسگالی کو ختم کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے جو کچھ کیا ہے وہ تقریباً ایک پاریہ ریاست بن گیا ہے مجھے بہت خوف ہے کہ اسرائیل کو نہ صرف امریکا میں بلکہ اب پوری دنیا کے لوگوں کی طرف سے انتہائی ناموافق نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی منتقلی کو روکنے کی ان کی حالیہ قرارداد کو سینیٹ کے 27 ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل ہے لیکن کسی بھی ریپبلکن نے نہیں، امریکا کے ٹیکس دہندگان کو نیتن یاہو کو فنڈ نہیں دینا چاہیے۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button