عالمی

نیوزی لینڈ بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر تیار

برطانیہ کے بعد اب نیوزی لینڈ نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ نیوزی لینڈ کی کابینہ ستمبر میں کرے گی۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا مشروط اعلان کر دیا ہے جبکہ پرتگال، جرمنی اور مالٹا نے بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اشارہ دیا تھا۔

یاد رہے کہ کینیڈا بھی اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں فلسطینی ریاست کو مشروط طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔

اس سے قبل اپنے بیان میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور امریکا دنیا میں مزید امن لانے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں، مشرق وسطیٰ میں مقاصد کے حصول کے طریقہ کار پر ہمارا برطانیہ سے اختلاف ہو سکتا ہے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا کیا معنی رکھتا ہے، جب وہاں کوئی حکومت ہی موجود نہیں ہے، غزہ کے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کا بنیادی ہدف اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حماس کبھی بھی اسرائیلی شہریوں پر دوبارہ حملہ نہیں کر سکے گی، ہمارے اہداف بہت واضح ہیں۔ ہم اسے بنانا چاہتے ہیں تاکہ حماس معصوم لوگوں پر حملہ نہ کر سکے۔ ہم غزہ میں انسانی مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button