کاروباری

مالی سال 2025 میں خدمات کی برآمدات 9.23 فیصد بڑھ کر 8.39 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

پاکستان کی خدمات کی برآمدات میں مالی سال 2025 کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ٹیلی کمیونی کیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی بہتر کارکردگی کے باعث 8 ارب 39 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔

ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق پاکستان کی خدمات کی برآمدات مالی سال 2025 میں 9.23 فیصد اضافے کے ساتھ 8 ارب 39 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے 7 ارب 68 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ یہ اضافہ بنیادی طور پر ٹیلی کمیونی کیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی بہتر کارکردگی کی بدولت ہوا ہے۔

اگرچہ یہ اضافہ معتدل ہے، لیکن یہ خدمات کے شعبے میں مسلسل بحالی اور توسیع کی عکاسی کرتا ہے، جس میں فروری 2024 سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، سوائے اگست میں 6.5 فیصد کی عارضی کمی کے۔

روپے کی مالیت میں، خدمات کی برآمدات مالی سال 2025 میں 7.86 فیصد بڑھ کر 2 کھرب 34 ارب 50 کروڑ روپے ہو گئیں، جو گزشتہ سال 2 کھرب 17 ارب 40 کروڑ روپے تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے باوجود رجحان مثبت ہے۔

 

 

جون کے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق خدمات کی برآمدات میں سال بہ سال 12.91 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 72 کروڑ 66 لاکھ 80 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جو جون 2024 میں 64 کروڑ 35 لاکھ 90 ہزار ڈالر تھیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ٹیلی کمیونی کیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز، جو سروسز کی برآمدات کا سب سے بڑا حصہ ہیں، مالی سال 2025 میں 18.18 فیصد بڑھ کر 3 ارب 80 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال 3 ارب 22 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھیں۔

دیگر بزنس سروسز میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا، جو 7.35 فیصد بڑھ کر 1 ارب 66 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہو گئیں، جو گزشتہ سال 1 ارب 55 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھیں۔

ٹرانسپورٹ خدمات کی برآمدات میں 27.86 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 98 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال 76 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھیں، اس اضافے کی وجہ لاجسٹکس اور کارگو موومنٹ کی بڑھتی ہوئی طلب رہی۔

تاہم، ٹریول خدمات میں 4.88 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور یہ 72 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک گر گئیں، جو گزشتہ سال 75 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھیں۔

مالی سال 2025 میں یہ اضافہ دو سال کی سست رفتاری کے بعد سامنے آیا ہے، جب مالی سال 2024 میں سروسز کی برآمدات میں صرف 2.77 فیصد اور مالی سال 2023 میں 2.78 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

مالی سال 2023 میں یہ برآمدات 7 ارب 30 کروڑ ڈالر تھیں، جو مالی سال 2022 میں 7 ارب 10 کروڑ ڈالر تھیں۔

حکومت نے آئندہ پانچ سال میں آئی ٹی کی برآمدات کو 15 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، تاکہ ڈیجیٹل اکانومی کو مستقبل کی ترقی کا اہم محرک بنایا جا سکے۔

درآمدات کے شعبے میں مالی سال 2025 میں سروسز کی درآمدات 2.01 فیصد اضافے کے ساتھ 11 ارب 2 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال 10 ارب 79 کروڑ ڈالر تھیں۔

تاہم، جون میں سروسز کی درآمدات میں سال بہ سال 24.01 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی اور یہ 85 کروڑ 15 لاکھ 60 ہزار ڈالر تک گر گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 1 ارب 12 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھیں۔

درآمدات میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ٹرانسپورٹ اور ٹریول خدمات رہیں، ٹرانسپورٹ کی ادائیگیاں مالی سال 2025 میں معمولی 0.68 فیصد کمی کے ساتھ 4 ارب 64 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہیں، جو پچھلے سال 4 ارب 67 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھیں۔

اس دوران، ٹریول خدمات کی درآمدات میں 6.17 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2 ارب 40 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال 2 ارب 26 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھیں، جس سے بیرونِ ملک سفر اور سیاحت میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

مالی سال 2024 میں خدمات کی درآمدات میں 17.14 فیصد اضافہ ہوا تھا اور یہ 10 ارب 11 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، جو ایک سال پہلے 8 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھیں، جو زیادہ تر کورونا کے بعد سفر اور لاجسٹکس کی بحالی کے باعث ہوا۔

درآمدات میں اضافے کے باوجود پاکستان کا خدمات ٹریڈ خسارہ مالی سال 2025 میں 15.84 فیصد کمی کے ساتھ 2 ارب 61 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گیا، جو پچھلے سال 3 ارب 11 کروڑ ڈالر تھا۔

جون میں بھی یہ کمی برقرار رہی اور خسارہ سال بہ سال 73.9 فیصد کم ہو کر 12 کروڑ 48 لاکھ 90 ہزار ڈالر رہ گیا، جو گزشتہ سال اسی ماہ میں 47 کروڑ 84 لاکھ 10 ہزار ڈالر تھا۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button