عالمی

سعودی عرب کا پریمیم ریزیڈنسی پروگرام کیا ہے اور کتنے غیر ملکیوں نے درخواستیں دیں؟

 سعودی عرب کے پریمیم ریزیڈنسی پروگرام کیلیے ہزاروں غیر ملکیوں نے درخواست دی۔ یہ پروگرام ہنر مند پیشہ ور افراد، سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور دولت مند شخصیات کو مقامی کفیل کے بغیر مملکت میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق پریمیم ریذیڈنسی پلیٹ فارم کو جنوری 2024 سے جولائی 2025 کے درمیان 40,163 درخواستیں موصول ہوئیں جو غیر ملکیوں کی اس اقدام میں مضبوط اور بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی ہے۔

پریمیم ریزیڈنسی پروگرام سعودی حکومت کے وژن 2030 کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے جس کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا اور جدت اور سرمایہ کاری کیلیے مملکت کو ایک عالمی مرکز کے طور پر پوزیشن دینا ہے۔

واضح رہے کہ صرف 2024 میں 8074 پریمیم ریزیڈنسی پرمٹ جاری کیے گئے۔ سب سے بڑا حصہ 5578 اجازت نامے غیر معمولی قابلیت کی کیٹیگری کے تحت دیے گئے۔

دیگر کیٹیگریز میں سرمایہ کاری، انٹرپرینیورشپ، رئیل اسٹیٹ کی ملکیت اور وقت کیلیے محدود اور لامحدود رہائش کے اختیارات شامل ہیں۔

اس سے قبل 2024 میں سعودی عرب نے اس پروگرام کو دو سے سات مختلف کیٹیگریز تک بڑھایا جس سے درخواست دہندگان کی ایک وسیع رینج کیلیے یہ زیادہ قابل رسائی ہوگیا۔

ان کیٹیگریز میں غیر معمولی قابلیت، ہنر، سرمایہ کار، کاروباری، رئیل اسٹیٹ کے مالک اور محدود یا لامحدود مدت کی پریمیم رہائش شامل ہیں۔

سعودی عرب کا پریمیم ریزیڈنسی پروگرام ایک ایسا نظام ہے جو غیر ملکیوں کو بغیر کفیل (اسپانسر) کے سعودی عرب میں رہائش، کام کرنے اور سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button