عالمی

’’ہم تکلیف میں ہیں‘‘ سوڈانی شہر الفاشر میں لوگ زندہ رہنے کے لیے جانوروں کا چارہ کھانے لگے

دارفور: سوڈان کے شہر الفاشر میں قحط کے باعث انسانیت کی بقا کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں، جہاں سوڈانی جانوروں کا چارہ کھانے پر مجبور ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق سوڈان کے شمالی دارفور کے علاقے میں لوگ زندہ رہنے کے لیے جانوروں کا چارہ کھانے پر مجبور ہیں، کیوں کہ پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے فوج کے زیر کنٹرول علاقے کے آخری شہری مرکز الفاشر کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

الفاشر میں بے گھر افراد کے کیمپ میں مقیم ایک شہری عثمان انگارو نے الجزیرہ کے ذریعے فریاد کی ’’دنیا والو، ہم مصیبت میں ہیں، ہمیں انسانی امداد کی ضرورت ہے، خوراک اور ادویات کی، چاہے ہوائی جہاز سے ہو یا زمینی راستے کھول کر، ہم اس حالت میں زندہ نہیں رہ سکتے۔‘‘

 

انگارو نے بتایا کہ وہ اور اس کا خاندان اور الفاشر میں تمام لوگ مونگ پھلی کے چھلکوں سے بنا چارہ ’’امباز‘‘ کھانے لگے ہیں، لوگوں کا انحصار مویشیوں کے لیے بنائے گئے اس چارے پر ہے۔

الفاشر میں ایک خیراتی باورچی خانہ بھی کام کر رہا ہے جس کا نام مطبخ الخیر ہے، جہاں سے بعض لوگوں کو روزانہ ایک وقت کا کھانا مل جاتا ہے، ان ہی میں سے جانوروں کی ڈاکٹر زلفہ النور بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ امباز کا چارہ بھی اب ختم ہونے والا ہے، اس لیے فوری طور پر بین الاقوامی مداخلت کی جائے، اور فضا کے ذریعے انسانی امداد گرائی جائے۔

واضح رہے کہ الفاشر کے 2 ماہ کے محاصرے نے امدادی کوششوں کو سخت مشکل بنا دیا ہے، انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کی درجہ بندی (آئی پی سی) نے گزشتہ ہفتے الفاشر کے علاقے میں غذائی قلت کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ علاقے میں قحط کی سنگین ترین سطح ’آئی پی سی فیز 5‘ تک پہنچ چکی ہے، جو مکمل طور پر قحط کی نشان دہی کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سوڈان کی خانہ جنگی نے 13 ملین سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے شہر پہنچنے کی کوشش کرنے والے امدادی قافلے روکے اور خوراک کی ترسیل پر حملے کیے۔

دوسری طرف ڈاکٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ لوگ اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ ہیضہ بھی برداشت نہیں کر پا رہے، سوڈانی شہر الفاشر میں ہیضے کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی ہے اور 4 ہزار کیسز اور 191 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، جنوبی دارفور کے کیمپوں میں بھی درجنوں اموات واقع ہوئی ہیں، اور ہزاروں بے گھر افراد بھوک کے شکار ہیں۔ ادھر الفاشر پر آر ایس ایف کے حملے جاری ہیں اور ہر روز بڑھتی ہلاکتوں سے قبرستانوں کی جگہ کم پڑنے لگی ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button