قومی

وکیل خواجہ شمس الاسلام پر حملہ کرنے والا ملزم حملے سے پہلے کیا کر رہا تھا؟ کیسے فائرنگ کی؟ نئی فوٹیج

تفصیلات کے مطابق کراچی میں قتل ہونے والے ایڈووکیٹ خواجہ شمس الاسلام پر فائرنگ کی اے آر وائی نیوز نے مزید واضح فوٹیجز حاصل کر لی ہیں، جس سے پتا چلتا ہے کہ فائر کرنے والا کہاں موجود تھا اور کیسے فرار ہوا؟

فوٹیج میں مسجد کی سیڑھیوں سے نمازیوں کو اترتے دیکھا جا سکتا ہے، شمس الاسلام اپنے بیٹے کے ساتھ نیچے آ رہے تھے، جب کہ حملہ آور عمران آفریدی نمازی بن کر نیچے صف میں بیٹھا ہوا تھا۔

فوٹیج کے مطابق جب خواجہ شمس الاسلام آخری سیڑھی پر پہنچے تو ملزم تیزی سے چلتا ہوا آیا، جس نے ویسٹ کوٹ کی الٹے ہاتھ کی جیب میں پستول رکھا ہوا تھا، ملزم نے پستول کو بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر منتقل کیا، اور قریب پہنچ کر خواجہ پر گولیاں چلائیں اور فرار ہو گیا۔

گولیاں چلتے ہی شمس الاسلام اپنے بیٹے سمیت سیڑھیوں پر گر گئے، ملزم نے فیس ماسک، پاؤں میں موزے، ہاتھ میں گھڑی باندھ رکھی تھی، اور وہ سیدھے ہاتھ میں پستول تھامے مسجد کے خارجی راستے کی طرف فرار ہوا۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button