سعودی عرب کا بارش کے پانی کو محفوظ رکھنے کے لیے بڑا فیصلہ

سعودی عرب میں وزیر ماحولیات پانی و زراعت انجینئرعبدالرحمان الفضلی نے کہا ہے کہ ’مملکت میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے مختلف گنجائش کے حامل 1000 ڈیم تعمیر کرنے پر کام کر رہے ہیں، ڈیم تیزی سے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔‘
سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں کی مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران اُن کا کہنا تھا کہ ’ڈیم کی علاوہ ماحولیات کی قومی اسٹرٹیجی پر تیزی سے کام جاری ہے، ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی میں اضافے کیلیے 5 ماحولیاتی سینٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔‘
سعودی گرین انیشیٹیو کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ ’سرسبز سعودی عرب اقدام کے تحت 500 ہزار ہیکٹربنجر اراضی کو کاشت کے قابل بنایا گیا ہے اور 151 ملین پودوں کی کاشت کامیابی سے کی جاچکی ہے۔ سال 2030 تک 215 ملین پودے اگانے کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔‘
رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’ماحولیاتی سیاحت کے حوالے سے مملکت کی سطح پر پارکوں اورتفریح گاہوں کی تعمیر میں غیرمعمولی ترقی ہوئی ہے۔ اس وقت پارکوں کی تعداد 500 تک پہنچ چکی ہے جو ماضی میں صرف 18 ہوا کرتے تھے۔‘
تحفظ فطری حیات سے متعلق بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’آٹھ ہزار کے قریب ایسے جانور جو معدوم ہونے کے قریب تھے ان کی افزائش نسل کے لیے فطری ماحول فراہم کیا گیا۔‘
ہوا میں آلودگی کی سطح کو کم کرنے کیلیے ایئرکوالٹی مانیٹرنگ سینٹرز کے قیام پر تیزی سے کام کیا گیا تاکہ ان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے جو اب بڑھ کر240 سینٹرز تک پہنچ گئے ہیں۔
سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ سال 2016 میں یومیہ واٹر فلٹریشن کی گنجائش 8.8 ملین مکعب میٹر ہوتی تھی جس میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اب اس کی یومیہ پیداوار 16.6 مکعب میٹر تک پہنچ چکی ہے جس میں 75 فیصد سمندری پانی کو صاف کیا جاتا ہے۔ مملکت عالمی سطح پر سمندری پانی کو صاف کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔‘
اُنہوں نے بتایا کہ ’مملکت میں زراعت کے شعبے میں بھی ترقی کی گئی ہے اس حوالے سے 118 ارب ریال کی معاونت فراہم کی گئی جس کے خاطرخواہ نتائج سامنے آرہے ہیں اور زرعی پیداور 12 ملین ٹن تک پہنچ چکی ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مملکت نے مختلف زرعی و ڈیری مصنوعات میں بڑی حد تک خود کفالت کا ہدف حاصل کرلیا ہے، بعض زرعی اجناس کی پیداوار میں 70 سے 100 فیصد جبکہ پولٹری میں 70 فیصد تک خود کفیل ہو گئے ہیں۔‘