گھی ملز مالکان کا حکومت کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم

کراچی : گھی ملز مالکان نے حکومت کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا 48 گھنٹوں میں مطالبات نا مانے تو ملک بھر کی گھی ملیں غیر معینہ مدت کے لئیے بند کردیں گے۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر کے گھی ملز مالکان کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ حکومت کو ایف بی آر کو دئیے گئے اختیارات 48 گھنٹوں میں ٹھیک کرے ، 48 گھنٹوں میں مطالبات نا مانے تو ملک بھر کی گھی ملیں غیر معینہ مدت کے لئیے بند کردیں گے۔
چیئرمین پاکستان وناسپتی مینو فیچرز ایسوسی ایشن شیخ عمر ریحان نے کہا کہ ایف بی آر کے اضافی اختیارات سے گھی ملوں میں تعینات ایف بی آر کے اہلکار گھی مل اور مل مالکان کو ہراساں کر رہے ہیں۔
شیخ عمر ریحان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کا مینڈیٹ پیداوار اور خرید وفروخت دیکھنا ھے وہ پچھلے سالوں کو ریکارڈ مانگ کر ہراسگی کررہے ہیں۔
چیئرمین پی وی ایم اے نے مطالبہ کیا کہ اگر چیئرمین ایف بی آر کے دفتر پر نیب کا نمائندہ بٹھا دیا جائے تو کیا وہ کام کرسکیں گے۔
انھوں نے کہا کہ گھی پر 35 فیصد امپورٹ ڈیوٹی جبکہ دس فیصد ایڈوانس ٹیکس لگنے پہلے 45 فیصد ٹیکس ادا کر رہے ہیں ، ہمارا خام مال امپورٹ ہوتا ہے تو ہم پر الگ سے ٹیکس نہیں بنتا، ہم نے حکومت سے اربوں روپے واپس لینے ہیں ، گھی ملوں کے ساڑھے 6 ارب روہے یوٹیلیٹی اسٹورز پر واجب الادا ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والے ایس آئی ایف سی کے ساتھ اجلاس کے باعث آج کی ہڑتال کا اعلان 48 گھنٹوں کے لئیے موئخر کیا گیا ہے، جنرل باڈی اجلاس میں تمام ممبران نے فوری ہڑتال کا مینڈیٹ دیا تھا
گھی مل کی صنعت ڈیجیٹل انوائسنگ کے لئیے تیار نہیں ہے ، ڈیجیٹل انوائسنگ کے لئیے پوری انڈسٹری کو ڈیجیٹلائزاد ہونا ہوگا۔