کاروباری

محصولات میں اضافہ اور ٹیکس کی بنیاد میں توسیع حکومت کی اولین ترجیح ہے،محمد شہباز شریف

تمام شعبوں میں آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کا استعمال معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی پاکستان بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ محصولات میں اضافہ اور ٹیکس کی بنیاد میں توسیع حکومت کی اولین ترجیح ہے،تمام شعبوں میں آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کا استعمال معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے،کراچی میں قائم ہونے والے فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کی طرز پر تمام شعبوں میں عنقریب خودکار نظام قائم کیے جائیں گے۔

جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار چیئرمین شبیر دیوان کی قیادت میں پاکستان بزنس کونسل کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے وزیراعظم سے یہاں ملاقات کی۔اس موقع پر وفاقی وزراء جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، مصدق مسعود ملک، وزیر مملکت علی پرویز ملک اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں قائم ہونے والے فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کی طرز پر تمام شعبوں میں عنقریب خودکار نظام قائم کیے جائیں گے،سروس ڈلیوری کے عمل میں شفافیت لانا حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے، ہم برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے خواہاں ہیں اور برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات لیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ خام مال اور دیگر اشیاء کو عالمی معیار کے مطابق لایا جائے، تمام شعبوں میں آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کا استعمال معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، ملکی ترقی اور معاشی استحکام حکومت اور کاروباری برادری کے مابین تعاون پر منحصر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ محصولات میں اضافہ اور ٹیکس بیس میں توسیع ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وفد نے وزیراعظم کو ملک کے حالیہ معاشی استحکام پر خراج تحسین پیش کیا اور شرح سود کا بتدریج کمی کے بعد 12 فیصد پر آنا ملک میں کاروبار کے لیے انتہائی خوش آئند قرار دیا۔

وفد نے کراچی میں قائم ہونے والے فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم اور ڈیجیٹائزیشن اور دیگر اصلاحات کے بعد ایف بی آر کی کارکردگی میں واضح بہتری کو خوش آئند قرار دیا۔وفد کے ارکان نے کہا کہ فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم سے کاروباری برادری کے لیے آسانیاں پیدا ہوئی ہیں اور کلیئرنس کے نظام میں شفافیت آئی ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button