قومی

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدات این ایچ اے کا اجلاس، مختلف منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ

وفاقی وزیر مواصلات،نجکاری اور سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان نے کہاہے کہ سیالکوٹ سے راولپنڈی موٹروے کو دو طرفہ4کی بجائے 6لین میں تعمیر کا جائزہ لیں تاکہ آئندہ50 برسوں کی ضروریات کو سامنے رکھا جا سکے، تمام موٹرویز پر گاڑیوں کے کسی بیریئر یا رکاوٹ کے بغیر گزرنے کے میکنزم پر عمل کیا جائے جس کیلئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہی دی جانی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں بلوچستان،سندھ اور گلگت بلتستان سمیت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مختلف منصوبوں پر کام کی رفتار کار کا جائزہ لیا گیا۔و فاقی وزیر عبدالعلیم خان نے ہدایت کی کہ این ایچ اے اپنے تمام تعمیراتی منصوبوں پر لائیو کیمرے لگائے تاکہ ان منصوبوں کی کسی وقت بھی مانیٹرنگ کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ شاہراہیں اور موٹرویز ہمارا قومی اثاثہ ہیں، لہذا انہیں بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں مستقبل کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر ہی بنایا جانا چاہیے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ ہمیں ایسی سڑکوں کی تعمیر کو ترجیح دینا ہوگی جس سے ملک کو معاشی لحاظ سے بھی فائدہ ہو سکے۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ بلوچستان میں 150ارب روپے کی لاگت کی شاہراہ این 25کی مرحلہ وار تعمیر عمل میں لائی جائے اور این ایچ اے شاہراہوں کی مرمت کے منصوبوں کی تھرڈ پارٹی ایویلیو ایشن کو یقینی بنائے تاکہ سرکاری رقوم کا ضیاع نہ ہو سکے۔

انہوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ گلگت بلتستان حکومت سے ذرائع مواصلات کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کے لئے رابطہ کریں، اسی طرح ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں بلوچستان حکومت کو بھی اعتماد میں لیا جائے جس کے لئے فوری کام شروع ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سی پیک سے منسلک شاہراہوں کی تعمیر کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ این ایچ اے وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کرنے کے لئے اپنے منصوبے ڈیش بورڈ میں شامل کرے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اس اعلیٰ سطحی اجلا س میں وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے ہدایت کی کہ ہمیں مستقبل میں سینٹرل ایشیا کے ممالک تک رسائی کے لئے کم سے کم طویل راستے کا انتخاب کرنا ہوگا جس کے لئے فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جائے۔ اجلاس کو وفاقی سیکرٹری مواصلات، چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور سینئر افسران کی طرف سے مختلف جاری منصوبوں پر بریفنگ دی گئی اور بعض ضروری امور سمیت اہم فیصلوں کی منظوری عمل میں لائی گئی۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button